Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3698

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَيْلٌ لِلأُمَرَاءِ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ، وَيْلٌ لِلأُمَنَاءِ، لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ نَوَاصِيَهُمْ مُعَلَّقَةٌ بِالثُّرَيَّا، يَتَجَلْجَلُوْنَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوْا عَمَلًا". رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَ فِيْ رِوَايَتِهٖ: "أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا، يَتَذَبْذَبُوْنَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ وَلَمْ يَكُوْنُوْا عُمِّلُوْا عَلٰى شَيْءٍ".

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ويل للأمراء، ويل للعرفاء، ويل للأمناء، ليتمنين أقوام يوم القيامة أن نواصيهم معلقة بالثريا، يتجلجلون بين السماء والأرض، وأنهم لم يلوا عملا". رواه في "شرح السنة" ورواه أحمد و في روايته: "أن ذوائبهم كانت معلقة بالثريا، يتذبذبون بين السماء والأرض ولم يكونوا عملوا على شيء".

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے خرابی ہے حکام کے لیے خرابی ہے سرداروں کے لیے خرابی ہے امانت داروں کی ۱؎قومیں آرزو کریں گی قیامت کے دن کہ ان کی پیشانیاں ثریا تارے میں لٹکی ہوتیں،آسمان و زمین کے درمیان ہلتے ہوتے اور انہوں نے سرداری نہ لی ہوتی ۲؎(شرح سنہ،احمد) اور احمد کی روایت میں ہے کہ ان کے گیسو ثریا تارے میں لٹکے ہوتے،آسمان و زمین کے درمیان قلابازیاں کھاتے اورکسی چیز پر حکومت اختیار نہ کرتے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎امراءسے مراد سلطان و حکام ہیں اورعرفاء عریفکی جمع ہے اس سے مراد وہ چوہدری و نمبردار ہیں جو حاکم و رعایا کے درمیان واسطہ ہوں کہ رعایا کے معاملات حکومت کو پہنچاتے ہوں اورامینسے مراد خزانچی وغیرہ ہیں جو حکومت کی طرف سے ٹیکس،خراج وغیرہ کے نگہبان ہوں،اس میں یتیموں کے والی اور وصی بھی داخل ہیں۔چونکہ ان عہدوں پر پہنچ کر اپنے کو حقوق سے بچانا بہت مشکل ہوتا ہے اس لیے یہ ارشاد ہوا مگر خیال رہے کہ یہاں بھی روئے سخن ان کی طرف ہے جو نفس کے لیے بکوشش یہ عہدے حاصل کریں۔
۲
؎اس جملہ نے شرح فرمادی کہ امراء عرفاء سے وہ ہی مراد ہیں جو کوشش کرکے عیش کے لیے امیر بنیں یعنی ایسے حکام،چوہدری قیامت کا عذاب دیکھ کر آرزو کریں گے کہ ہم کو پیشانی کے بالوں سے آسمان سے لٹکا دیا جاتا ہم وہاں ہچکولے کھاتے یہ اچھا ہوتا اس امارت و وزارت سے،آج ہمیں ایسی ندامت ذلت،رسوائی اور عذاب نہ ہوتے۔اقوامفرماکر اشارۃً فرمادیا کہ سارے بادشاہ سردار یہ تمنا کریں گے بلکہ ان میں سے بعض قومیں یعنی ظالمین یا عیش پرست۔
۳
؎ظالم عیش پرست حکام کا تویہ حال ہوگا مگر عادل سلاطین خلفاء کی یہ عزت ہوگی کہ وہ نور کے منبروں پر ہوں گے رب سے بہت قریب۔ان تمام وعیدوں کا مقصد یہ ہے کہ لوگ حکومت کے طالب نہ بنیں کیونکہ نفس انسانی حکومت و سرداری کا خواہاں ہے۔خیال رہے کہ ملک قوم و دین کو سلطان کی بھی ضرورت ہے حکام کی بھی مگر یہ چیزیں ہیں بہت خطرناکالا من عصمہ اﷲ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3698