Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3681

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُوْنَ عَلَى الإِمَارَةِ وَسَتَكُوْنُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إنكم ستحرصون على الإمارة وستكون ندامة يوم القيامة، فنعم المرضعة وبئست الفاطمة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ تم حکومت پر عنقریب حرص کرو گے ۱؎اور ہوگی وہ قیامت کے دن شرمندگی ۲؎دودھ پلانے والی اچھی اور دودھ چھوڑانے والی بری۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں خطاب سارے مسلمانوں سے ہے اور حرص سے مراد نفسا نی خواہش ہے حضور کی یہ پیشگوئی آج آنکھوں دیکھی جارہی ہے کہ مسلمان صدارت،وزارت،سفارت،ممبری کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔
۲
؎کیونکہ ایسے سلطان کے ذمہ ہزاروں کے حقوق و مظالم ہوتے ہیں جن کے حساب سے چھوٹنا آسان نہیں ہے۔
۳
؎سبحان اﷲ!کیسی نفیس عبارت ہے،سلطنت کو رعایا کی ماں قرار دیا گیا،ظالم سلطنت کو دودھ سے محروم کرنے والی ماں فرمایا گیا اور عادل سلطنت کو دودھ دینے والی سگی ماں قرار دیا گیا یعنی رعایا کو حقوق دینے والی سلطنت اچھی ہے اور محروم کرنے والی سلطنت بُری۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3681