Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1453

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن أَنَسٍ قَالَ: ضَحّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهٖ وَسَمّٰى وَكَبَّرَ قَالَ: رَأَيْتُهٗ وَاضِعًا قَدَمَهٗ عَلیٰ صِفَاحِهِمَا وَيَقُولُ: “بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرْ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أنس قال: ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين ذبحهما بيده وسمى وكبر قال: رأيته واضعا قدمه علی صفاحهما ويقول: “بسم الله والله أكبر» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت انس سے فرماتےہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دوچتکبرے سینگ والے بکروں کی قربانی کی ۱∞؎کہ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیابسم اللهو تکبیرکہی فرمایا کہ میں نے آپ کو ان بکروں کی کروٹوں پر اپنا قدم رکھے دیکھا۲؎آپ فرماتے تھےبِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرْ ۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ایک اپنی طرف سے اور ایک اپنے غریب امتیوں کی طرف سےجو قربانی پرقادر نہ ہوں جیساکہ آگے آرہا ہے۔ایک قربانی سارے غریبوں کی طرف سے کافی ہونا حضورصلی الله علیہ وسلم کی خصوصیت ہے،حضور صلی الله علیہ وسلم کا ایک سجدہاِنْ شَاءَاللّٰهُ تعالٰیہم جیسے لاکھوں گنہگاروں کا بیڑا پار لگائے گا۔قربانی اگرچہ ایک ہے مگر کس کی ہے جو ساری مخلوق میں یکتا ہے۔۲؎اس طرح کہ جانورکو قبلہ رولٹاکر اپنا داہنا پاؤں اس کے داہنے کندھے پر رکھا،بائیں ہاتھ سے اس کا سرپکڑا اور داہنے ہاتھ سے چھری چلائی۔خیال رہے کہ ذبح پربِسْمِ اللهِکہنا فرض ہے اوروَاللهُ أَكْبَرْکہنا مستحب اور اس وقت درود شریف پڑھنا ہمارے ہاں مکروہ ہے،امام شافعی کے ہاں سنت۔(مرقاۃ)بہتر یہ ہے کہ جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرے اور اگر ذبح کرنا نہ جانتا ہو تو ذبح اور سے کرائے مگر سامنے موجود ہونابہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1453