Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1471

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهٗ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ” .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ إِسْنَادُهٗ ضَعِيفٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر” .رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي إسناده ضعيف

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کوئی زمانہ ایسا نہیں جس میں خدا تعالٰی کو اپنی بقرعید کے عشرہ کی عبادت سے زیادہ پیاری ہو اس زمانہ کے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابرہوتاہے اور اس کی ہر رات کا قیام شبِ قدر کے قیام کے برابر ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد ضعیف ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں اتنے ثواب بخش دینا رب تعالٰی کےکرم سے بعید نہیں،کیوں نہ ہو کہ ان دنوں حضرت خلیل نے اپنے فرزند کی قربانی دی تھی اور حاجی حج بھی اسی زمانہ میں کرتے ہیں،اچھوں کی نسبت سے زمان اور زمیں بھی اچھے بن جاتے ہیں۔خیال رہے کہ اس حدیث سے دسویں بقرعید خارج ہے کہ اس دن روزہ حرام ہے۔۲؎کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے،نیز بیہقی وغیرہ نے حضرت عبد الله ابن عباس سے اسی کی مثل روایت کی،اس کی وجہ سے یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1471