Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1476

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللهِ مَا هٰذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: “سُنَّةُ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ” قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: “بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ” . قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: “بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ” رَوَاهُ أَحْمدُ وَابْنُ مَاجَه

وعن زيد بن أرقم قال: قال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا رسول الله ما هذه الأضاحي؟ قال: “سنة أبيكم إبراهيم عليه السلام” قالوا: فما لنا فيها يا رسول الله ؟ قال: “بكل شعرة حسنة” . قالوا: فالصوف يا رسول الله ؟ قال: “بكل شعرة من الصوف حسنة” رواه أحمد وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا یارسول الله یہ قربانیاں کیاہیں فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ۱∞؎عرض کیا کہ ان میں ہمیں کیا ملے گافرمایا ہربال کےعوض نیکی عرض کیا کہ اون یارسول الله تو فرمایا کہ اون کے ہربال کےعوض نیکی ۲؎(احمد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎جس کی ابتداءفرزند کے ذبح سے ہوئی اور آپ آخر تک کرتے رہے۔حضورصلی الله علیہ وسلم کے اعمال طیبہ کو سنت کہتےہیں اورگزشتہ انبیاء کے طریقہ کو فطرت لہذا قربانی سنت و فطرت ہے۔۲؎پوچھنے والوں کوخیال یہ ہواکہ اون کے بال توبہت زیادہ ہوتے ہیں،اتنی نیکیاں ایک قربانی میں کیسےمل جائیں گی۔جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ دینے والا بڑا کریم ہے،وہ اپنے کرم سے اس سےبھی زیادہ دے توکون اسے روک سکتا ہے۔اس سےبھی معلوم ہوا کہ قربانی کی بجائے قیمت یابازارسے گوشت خریدکرخیرات نہیں کرسکتےکیونکہ پھرثواب کے لیے بال کہاں سے آئیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1476