Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1469

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحٰى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةٌ وَفِي الْبَعِيرِ عَشَرَةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ

وعن ابن عباس قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فحضر الأضحى فاشتركنا في البقرة سبعة وفي البعير عشرة. رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفرمیں تھے ۱∞؎کہ بقرعید آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوگئے ۱∞؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ کسی جگہ پندرہ روز کی نیت سےٹھہر گئے تھے،ورنہ مسافر پر قربانی واجب نہیں،یا یہ قربانی استحبابًا کی گئی،جیسے بعض حجاج اپنے اور اپنے مرحوم عزیزوں کی طرف سے مکہ معظمہ میں قربانی دے دیتے ہیں۔۲؎اسحاق ابن راہویہ کا یہی مذہب ہے،ان کے علاوہ باقی تمام امام اس پرمتفق ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں بھی سات ہی آدمی شریک ہوسکتے ہیں،یہ حدیث اس گزشتہ حدیث سےمنسوخ ہے جو پہلےگزرچکی کہ گائے اور اونٹ سات سات کی طرف سے جائزہے۔(لمعات)مرقات نے فرمایا کہ عبد الله ابن عباس کی بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ ہم اونٹ میں سات یادس شریک ہوئے،لہذا شک کی بنا پر یہ حدیث قابل عمل نہیں،نیز یہ حدیث حسن غریب ہے اور سات کی روایات نہایت صحیح،لہذا اس کے مقابل یہ حدیث متروک ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1469