Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1459

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلْمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهٖ وَبُشرِهٖ شَيْئًا” وَفِي رِوَايَةٍ “فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفْرًا” وَفِي رِوَايَةٍ “مَنْ رَأٰى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهٖ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهٖ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إذا دخل العشر وأراد بعضكم أن يضحي فلا يمس من شعره وبشره شيئا” وفي رواية “فلا يأخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا” وفي رواية “من رأى هلال ذي الحجة وأراد أن يضحي فلا يأخذ من شعره ولا من أظفاره” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب عشرہ آجائے تو تم میں سےکوئی قربانی کرناچاہے تو اپنے بال وکھال کو بالکل ہاتھ نہ لگائے ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے نہ بال لے نہ ناخن کاٹے،ایک روایت میں ہے کہ جو بقرعید کاچاند دیکھے اورقربانی کرناچاہے تو نہ اپنے بال لے نہ ناخن ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو امیر وجوبًا یا فقیرنفلًا قربانی کا ارادہ کرے وہ بقرعید کا چاند دیکھنے سے قربانی کرنے تک ناخن بال اور مردار کھال وغیرہ نہ کاٹے نہ کٹوائے تاکہ حاجیوں سے قدرے مشابہت ہوجائے کہ وہ لوگ احرام میں حجامت نہیں کراسکتے اور تاکہ قربانی ہربال ناخن کا فدیہ بن جائے،یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں،لہذا قربانی والے پر حجامت نہ کرانابہترہے لازم نہیں،اس سےمعلوم ہوا کہ اچھوں سے مشابہت بھی اچھی ہے۔۲؎بلکہ جو قربانی نہ کرسکے وہ بھی اس عشرہ میں حجامت نہ کرائے،بقرعید کے دن بعد نماز حجامت کرائے تواِنْ شَاءَاللّٰهُثواب پائے گا،جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔خیال رہے کہمَنْ اَرَادَسے بعض شوافع فرماتے ہیں کہ قربانی واجب نہیں صرف سنت ہے ورنہ یہ کیوں فرمایا جاتا کہ جو قربانی کرنا چاہے وہ حجامت نہ کرائے ا ور کہتے ہیں کہ حضرت صدیق و فاروق قربانی نہیں کرتے تھے تاکہ لوگ اسے واجب نہ سمجھ جاویں،مگر یہ دلیل بہت کمزور ہے کیونکہ حدیث شریف میں نماز جمعہ کے اور حج کیلیئے بھیمَنْ اَرَادَارشاد ہوا ہے کہ فرمایا جو جمعہ پڑھنا چاہے وہ غسل کرے جو حج کرنا چاہے وہ جلدی کرے حالانکہ جمعہ بھی فرض ہے اور حج بھی،چونکہ جمعہ و حج ہرشخص پر فرض نہیں اور قربانی ہرشخص پر واجب نہیں اسی لیے اس طرح ارشاد ہوا، اورحضرت صدیق وفاروق کا قربانی نہ کرنا کہیں ثابت نہیں۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1459