Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1470

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ وَإِنَّهٗ لَيُؤْتٰى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ الله بمَكَانٍ قَبْلَ أَن يَقَعَ بِالْأَرْضِ فَطَيِّبُوا بهَا نَفْسًا”. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “ما عمل ابن آدم من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم وإنه ليؤتى يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها وإن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع بالأرض فطيبوا بها نفسا”. رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ انسان بقرعید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جو خون بہانے سے خدا کو زیادہ پیاری ہو ۱∞؎یہ قربانی قیامت میں اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گی ۲؎اورخون زمین پرگرنے سے پہلے الله کے ہاں قبول ہوجاتاہے لہذا خوش دلی سے قربانی کرو۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس سےمعلوم ہوا کہ قربانی میں مقصود خون بہاناہےگوشت کھایا جائے یا نہ کھایا جائے لہذا اگر کوئی شخص قربانی کی قیمت ادا کردے یا اس سے دگنا تگنا گوشت خیرات کردے،قربانی ہرگز ادا نہ ہوگی اور کیوں نہ ہو کہ قربانی حضرت خلیل الله کی نقل ہے،انہوں نے خون بہایا تھا گوشت یا پیسے خیرات نہ کیے تھے اورنقل وہی درست ہوتی ہے جو مطابق اصل ہو۔خیال رہے کہ اسلام سے پہلے قربانی کاگوشت کھاناحرام تھا اسے غیبی آگ جلاجاتی تھی مگر قربانی کا حکم تھا،اب کتنے بے وقوف ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں اتنی قربانیاں نہ کرو جن کا گوشت نہ کھایا جاسکے۔۲؎اور قربانی کرنے والے کے نیکیوں کے پلے میں رکھی جائے گی جس سے نیکیاں بھاری ہوں گی۔(لمعات)پھر اس کے لیئے سواری بنے گی جس کے ذریعہ یہ شخص بآسانی پل صراط سےگزرے گا اور اس کا ہرعضو مالک کے ہرعضو کافدیہ بنے گا۔(مرقاۃ)۳؎یعنی اور اعمال توکرنے کے بعد قبول ہوتے ہیں اورقربانی کرنے سے پہلے ہی،لہذا قربانی کو بیکارجان کر یاتنگ دلی سے نہ کرو ہر جگہ عقلی گھوڑے نہ دوڑاؤ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1470