Main Icon

باب : تیمم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 526

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا،وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نجِدِ الْمَاءَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فضلنا على الناس بثلاث: جعلت صفوفنا كصفوف الملائكة، وجعلت لنا الأرض كلها مسجدا،وجعلت تربتها لنا طهورا إذا لم نجد الماء". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہم کو دوسروں لوگوں پر تین چیزوں سے بزرگی دی گئی ۱؎ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح کی گئیں ۲؎ہمارے لیئے ساری زمین مسجد بنادی گئی ۳؎اور جب پانی نہ پائیں تو اس کی مٹی پاک کرنے والی کردی گئی ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ تین چیزیں وہ ہیں جو ہماری امت کو ملیں ہمارے سوا کسی کو ان میں سے ایک بھی نہ ملی۔خیال رہے کہ یہ تین حصر کے لیے نہیں کیونکہ اس امت کی اس کے علاوہ اور بہت سی خصوصیات ہیں۔
۲
؎یعنی نمازیوں کی صفیں جماعت میں اور غازیوں کی صفیں میدانِ جہاد میں ایسی اعلٰی اور افضل ہیں جیسے مقرب فرشتوں کی صفیں بارگاہِ الٰہی میں بوقتِ عبادت۔
۳
؎کہ ہرجگہ نمازہوسکتی ہے،پچھلی امتوں کی نمازیں صرف گرجوں اور کنیسوں ہی میں ہوسکتی تھیں،زمین میں،پہاڑ،دریائی اورہوائی جہازوغیرہ سب داخل ہیں۔خیال رہے کہ روڑی،قبرستان،بت خانہ،مذبحہ وغیرہ میں نماز درست نہیں۔مگر یہ ایک عارضہ کی وجہ سے ہے اگریہ عارضہ ہٹ جائے تو نمازدرست،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔
۴
؎پانی نہ پانے سے مراد اس کے استعمال پر نہ قادرہوناہے،خواہ اس لیے کہ پانی موجود نہ ہو یا اس لیے کہ موجود تو ہو،مگر دشمن یا موذی کی وجہ سے استعمال نہ کرسکے۔مٹی سے مرادجنس زمین کی ہر چیز ہے۔ریتا،پتھر،کان کا نمک،پتھری،کوئلہ وغیرہ سب داخل ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 526