Main Icon

باب : تیمم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 530

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الصَّعِيْدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِم وَإِنْ لَمْ يَجدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِيْنَ،فَإِذَا وَجَدَ المَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَهٗ، فَإِنَّ ذٰلِكَ خَيْرٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ. وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهٗ إِلٰى قَوْلِهٖ: عَشْرَ سِنِيْنَ.

عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن الصعيد الطيب وضوء المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين،فإذا وجد الماء فليمسه بشره، فإن ذلك خير". رواه أحمد والترمذي وأبو داود. وروى النسائي نحوه إلى قوله: عشر سنين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پاک مٹی مسلمان کا آب وضو ہے اگرچہ دس سال پانی نہ پائے ۱؎پھر جب پانی پائے تو اس سے اپنا بدن دھوئے کہ یہ یقینًا بہتر ہے۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)نسائی نے اس کی مثل روایت کی دس سال کے قول تک۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ تیمم وضو کی طرح طہارت مطلقہ اور کاملہ ہے،لہذا ایک تیمم سے ایک وقت میں بھی چند نمازیں پڑھ سکتے ہیں اور ایک وقت کے تیمم سے کئی وقت تک نمازیں پڑھ سکتے ہیں کیونکہ اسے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے وضو قراردیا تو جووضو کا حکم ہے وہی اس کا حکم ہے۔امام شافعی کے ہاں تیمم ضرورت طہارت ہے کہ وقت نماز نکل جانے سے تیمم ٹوٹ جاتا ہے اور ایک تیمم سے چند نمازیں نہیں پڑھ سکتے۔سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ آپ ہرنماز کے لیے الگ تیمم کرتے تھے۔یہ استحبابًا تھا جیسے وضو پر وضوکرلینا۔
۲
؎بہترسے مراد اصل ہے یعنی پانی اصل طہارت ہے اور اس کی عدم موجودگی میں تیمم اس کا نائب،جب اصل آگیاتو نائب کی گنجائش نہ رہی۔اس کامطلب یہ نہیں کہ تیمم بھی جائزہےمگر وضوبہتر،رب فرماتاہے :"اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَئِذٍ خَیۡرٌ مُّسْتَقَرًّا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 530