Main Icon

باب : تیمم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 535

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ الْجُهَيْم بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنْ نَحْو بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهٗ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حَتّٰى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَار،فَمَسَحَ بِوَجْهِهٖ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيهِ السَّلامَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي الجهيم بن الحارث بن الصمة قال: أقبل النبي -صلى الله عليه وسلم- من نحو بئر جمل، فلقيه رجل فسلم عليه، فلم يرد النبي -صلى الله عليه وسلم- حتى أقبل على الجدار،فمسح بوجهه ويديه، ثم رد عليه السلام. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو الجہیم ابن حارث ابن صمہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ جمل کی طرف سے تشریف لائے ۱؎تو آپ کو ایک شخص ملا اس نے سلام کیاحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کے پاس تشریف لائے توچہرہ اورہاتھوں کا مسح کیاپھراسے سلام کاجواب دیا۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎جمل ایک بستی ہے جسے مدینہ بھی کہتے ہیں،یہ کنواں اس کی طرف منسوب ہے اوراب اس بستی کا نام ہی بئر جمل ہوگیا،یہیں حضرت علی مرتضیٰ و عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کی جنگ ہوئی۔ ۲؎یعنی تیمم کے بعد اس کا ذکر ابھی کچھ پہلے گزر چکا۔اورپوری تحقیق "بَابُ مُخَالَطَۃِ الْجُنُبِ"میں بھی گزر گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 535