Main Icon

باب : تیمم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 531

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِيْ سَفَرٍ، فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهٗ فِيْ رَأْسِهٖ فَاحْتَلَمَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ هَل تَجدُونَ لِيْ رُخْصَةً فِي التَّيَمُّم؟ قَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذٰلِكَ ،قَالَ: "قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللّٰهُ، أَلَّا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا، فَإِنَّ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيْهِ أَن يَتَيَمَّمَ وَيُعَصِّبَ عَلٰى جُرْحِهٖ خِرْقَةً، ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا، وَيَغْسِلَ سَائِر جَسَدِهٖ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن جابر قال: خرجنا في سفر، فأصاب رجلا منا حجر فشجه في رأسه فاحتلم، فسأل أصحابه هل تجدون لي رخصة في التيمم؟ قالوا: ما نجد لك رخصة وأنت تقدر على الماء، فاغتسل فمات، فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم أخبر بذلك ،قال: "قتلوه قتلهم الله، ألا سألوا إذ لم يعلموا، فإن شفاء العي السؤال، إنما كان يكفيه أن يتيمم ويعصب على جرحه خرقة، ثم يمسح عليها، ويغسل سائر جسده رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفرمیں گئے تو ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگ گیا جس نے اس کے سرمیں زخم کردیا پھر اسے احتلام ہوگیا تو اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم میرے لیئے تیمم کی اجازت پاتے ہو وہ بولے تیرے لیئے تیمم کی اجازت نہیں پاتے ۱؎تو تَو پانی پر قادر ہے اس نے غسل کرلیا پس مر گیا۲؎جب ہم حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو اس کی خبر دی گئی فرمایا انہیں خداغارت کرے اسے انہوں نے ماردیا۳؎جب جانتے نہ تھے پوچھ کیوں نہ لیا بے علمی کا علاج پوچھ لینا ہے۴؎اسے یہ کافی تھا کہ تیمم کرلیتا اوراپنے زخم پرکپڑا لپیٹ لیتاپھر اس پر ہاتھ پھیرلیتا اورباقی جسم دھو ڈالتا۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎مگر وہ سمجھے کہ تیمم بیمار کے لئے نہیں صرف پانی نہ ملنے کی حالت میں ہے کیونکہ رب فرماتا ہے:"فَلَمْ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا" یہ ہے اجتہاد کی غلطی اورخطاء۔
۲
؎یہ ہے صحابہ کا تقویٰ اورخوف خدا کہ جان دیدی مگر نماز چھوڑنا گوارا نہ کیا۔
۳
؎یعنی یہ لوگ اس کی موت کا سبب بن گئے نہ ایسا فتویٰ دیتے نہ وہ غسل کرکے وفات پاتا اور یہ بددعا اظہار ناراضی کے لئے ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر خطا اجتہادی کی بنا پر قتل بھی واقع ہوجائے تب بھی مجتہدپرقصاص،یادیت،بلکہ گناہ بھی نہیں۔لہذا حضرت علی و امیرمعاویہ وعائشہ صدیقہ کی جنگوں میں جو مسلمانوں کا کشت وخون ہوا اس کی پکڑ کسی پر نہیں۔
۴
؎یعنی انہیں چاہیئے تھا کہ اسے خود حکم نہ دیتے بلکہ میرے پاس آنے تک صبر کرتے مجھ سے مسئلہ پوچھتے۔
۵
؎امام اعظم کے نزدیکوَیُعَصِّبُکا واؤ بمعنیاَوہے۔مطلب یہ ہے کہ اگر وہ غسل بالکل نہ کرسکتا تھاتب تو تیمم کرلیتا اوراگرصرف سر پر پانی ڈالنامضرتھا تو زخم پر پٹی باندھ کرمسح کرلیتا باقی جسم دھولیتا۔امام شافعی اس واؤ کو جمع کے لئے مانتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں تیمم بھی کرے اورغیرمجروح حصے کا غسل بھی،لیکن امام اعظم کا قول بہت قوی ہے کیونکہ تیمم غسل کا نائب ہے اور نائب و اصل کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔نیزمحدثین کے نزدیک یہ حدیث ضعیف بھی ہے،دیکھومرقاۃ۔خیال رہے کہ مشکوک پانی کی صورت میں غسل وتیمم دونوں کرتے ہیں اس کی وجہ ہماری اپنی بے علمی ہے کہ یہ پانی مطہرہے یا نہیں،وہاں اصل ونائب کا اجتماع نہیں،وہاں یا غسل ہی طہارت ہے یاتیمم ہی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 531