- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1480
باب : گرہن کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1480
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ الشَّمْسَ خُسِفَتْ عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ مُنَادِيًا: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰى أَرْبَعَ رَكْعَاتٍ وَفِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجدَاتٍ. قَالَت عَائِشَة: مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ وَلَا سَجَدْتُ سُجُودًا قطّ كَانَ أَطْوَلُ مِنْهُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن عائشة قالت: إن الشمس خسفت علی عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث مناديا: الصلاة جامعة فتقدم فصلى أربع ركعات وفي ركعتين وأربع سجدات. قالت عائشة: ما ركعت ركوعا قط ولا سجدت سجودا قط كان أطول منه(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضورنبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گرہن لگا ۱∞؎تو آپ نے اعلانچی بھیجا کہ نمازتیارہے پھر آپ امام ہوئے تو دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیئے ۲؎حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس سے دراز رکوع و سجدے کبھی نہ کیئے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎جس دن حضرت ابراہیم ابن رسول الله کی وفات ہوئی،بعض علماء فرماتے ہیں کہ وہ چاندکی دس تاریخ تھی لہذا فلاسفہ کا یہ قول باطل ہے کہ سورج گرہن چاند کی بالکل آخری تاریخوں میں ہی لگ سکتا ہے۔خیال رہے کہ کفار عرب اور مشرکین ہند کے اس گرہن کے متعلق عجیب خیالات ہیں۔کفار عرب کہتے تھے کہ کسی برے آدمی کی پیدائش یا اچھے آدمی کی وفات پرگرہن لگتا ہے۔مشرکین ہند کا عقیدہ ہے کہ چاند اورسورج پہلے انسان تھے،انہوں نےبھنگیوں چماروں سے کچھ قرض لیا اور ادا نہ کیا اس سزا میں انہیں گرہن لگتا ہے۔چنانچہ ہندوگرہن کے وقت بھنگیوں کو خیرات دیتے ہیں اور مانگنے والےبھنگی بھی کہتے ہیں کہ سورج مہاراج کا قرض چکاؤ۔اسلام ان لغویات سے علیحدہ ہے،وہ فرماتاہے کہ یہ الله کی قدرت کی نشانیاں ہیں جب چاہے چاندسورج کو نورانی کردے اور جب چاہے ان کا نورچھین لے۔چونکہ یہ قہرخداوندی کے ظہور کا وقت ہے اس لیے اس وقت نماز پڑھو،دعائیں مانگو،صدقہ دو،غلام آزاد کرو تاکہ رحم کیے جاؤ ۔۲؎یعنی ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے۔اس حدیث کی بنا پر امام شافعی نماز کسوف میں ہر رکعت میں دو رکوع مانتے ہیں،ہمارے امام صاحب کے ہاں ہر رکعت میں ایک رکوع ہوگا اور دوسجدے اس لیے کہ حاکم نے باسنادصحیح جو مسلم،بخاری کی شرط پر ہے حضرت ابوبکر سے روایت کی کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے چاندسورج کے گرہن کے وقت دو رکعتیں پڑھیں جو عام نمازوں کی طرح تھیں،نیزحضرت عبد الله ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے نمازگرہن پڑھی،پھر کچھ خطبہ فرمایا جس کے آخری الفاظ یہ ہیں"فَاِذَارَءَیْتُمُوْھَا فَصَلُّوْا صَلَاۃَ کَمَا صَلَّیْتُمُوْھَا مِنَ الْمَکْتُوْبَۃِ"یعنی جب تم گرہن دیکھو تو جیسے اورفرض نمازیں پڑھتے ہو اسی طرح اس وقت بھی نفل پڑھ لیا کرو۔حدیث قولی اورفعلی سے معلوم ہوا کہ گرہن کی نماز اورنمازوں کی طرح ہے،زیادہ رکوع والی احادیث سخت مضطرب ہیں۔چنانچہ فی رکعت دو رکوع،تین رکوع،چار رکوع،پانچ رکوع احادیث میں آئے ہیں،لہذا ان میں سےکوئی حدیث قابل عمل نہیں،نیز زیادہ رکوع کی اکثر احادیث یاحضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہیں یا حضرت عبد الله ابن عباس سے،حضرت عائشہ صدیقہ بی بی ہیں اورحضرت ابن عباس بچے تھے یہ دونوں نماز میں حضورصلی الله علیہ وسلم سے بہت دور رہتے تھے،حضور صلی الله علیہ وسلم کے رکوع سجدے جیسے اگلی صف والوں پر ظاہر ہوں گے ویسے ان پرنہیں ہوسکتے اورمردوں کی روایت ایک رکوع کی ہے،لہذا تعارض کے وقت ان کی روایت قوی ہوگی،نیز چند رکوع والی حدیثیں قیاس شرعی کےبھی خلاف ہیں اور ایک رکوع والی حدیث قیاس کے مطابق اس لیے تعارض کے وقت ایک رکوع والی حدیث کو ترجیح ہوگی،اس بناء پر امام صاحب نے ان روایتوں پرعمل نہ کیا۔۳؎آپ کا فرمان اپنے متعلق ہے یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم نے یہ نمازباجماعت بہت دراز فرمائی ورنہ خودحضورصلی الله علیہ وسلم نماز تہجد اس سےبھی دراز پڑھتے تھے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1480