Main Icon

باب : گرہن کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1484

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا يَخْشٰى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةَ فَأَتَى المَسْجِدَ فَصَلّٰى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهٗ قَطُّ يَفْعَلُهٗ وَقَالَ: “هٰذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهٖ وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللهُ بِهَا عِبَادَهٗ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذٰلِكَ فَافْزَعُوا إِلٰى ذِكْرِهٖ وَدُعَائِهٖ وَاِسْتِغْفَارِهٖ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي موسى قال: خسفت الشمس فقام النبي صلى الله عليه وسلم فزعا يخشى أن تكون الساعة فأتى المسجد فصلى بأطول قيام وركوع وسجود ما رأيته قط يفعله وقال: “هذه الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت أحد ولا لحياته ولكن يخوف الله بها عباده فإذا رأيتم شيئا من ذلك فافزعوا إلى ذكره ودعائه واستغفاره”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ سورج گھر گیا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم گھبرائے ہوئے کھڑے ہوئے اس خوف سے کہ قیامت آگئی ۱∞؎مسجدمیں تشریف لائے بہت دراز قیام و رکوع اور سجدے سے نماز پڑھی کہ ایساکرتے میں نے آپ کوکبھی نہ دیکھا۲؎اور فرمایا یہ وہ نشانیاں ہیں جن کو الله بھیجتا ہےکسی کی موت و زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتیں لیکن الله اس سے اپنے بندوں کو ڈراتاہے۳؎تو جب تم ان میں سے کچھ دیکھو الله کے ذکر،دعا و استغفار کی طرف گھبراکر آجاؤ ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ بطورتمثیل حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم کو قیامت کا ساخوف ہوا ورنہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جانتے تھے کہ ابھی قیامت کا وقت نہیں خود ہی تو علامات قیامت بے شمار بیان فرمائی ہیں۔رب تعالٰی نے سارے جہان میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے دین کے پھیلانے کا وعدہ کیا ہےجن کی اطلاع اس سے پہلے سرکار بار بار دے چکے ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ اشعری فتح خیبر کے سال ایمان لائے اور سورۃ فتح اس سے کہیں پہلے نازل ہوچکی تھیں جس میں یہ تمام وعدے ہیں،نیز ڈرخوف دل کے حالات ہیں۔دوسرا شخص علامات ہی سے معلوم کرسکتا ہےحقیقت حال سے خبردارنہیں ہوسکتا۔حضرت ابوموسیٰ نے اندازًا یہ بیان کیا۔(لمعات)لہذا اس حدیث سے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم قیامت سے بالکل بے خبرتھے۔۲؎اس سےمعلوم ہورہا ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے اس نماز کی ہر رکعت میں ایک رکوع دو سجدے کیے مگر بہت دراز کئے،چونکہ ابوموسیٰ اشعری اس وقت بچے نہ تھے اس لیے آپ حضورصلی الله علیہ وسلم کی اس نماز سے بہت ہی خبردار تھے،لہذا آپ کی یہ روایت حضرت ابن عباس وعائشہ صدیقہ کی احادیث پر راجح ہے اور یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔۳؎اس میں کفارعرب کے مذکورہ بالاعقیدہ کی تردیدہے اور آج کل کے فلاسفہ کا رد ہے کیونکہ خسوف و کسوف محض چاندسورج کی حرکات سے ہوتے ہیں،نہیں بلکہ قیامت یاد دلاتے اور رب کی قدرت ظاہر کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔۴؎اس جملہ سے معلوم ہوا کہ گرہن پرحضورصلی الله علیہ وسلم کا گھبرانا ہماری تعلیم کے لیے تھااور خدا کی ہیبت سے نہ کہ اپنی بے علمی یا خدا کے وعدوں پر بے اعتمادی کی وجہ سے گرہن میں جیسےنمازپڑھنا سنت اختیاری ہے ایسے ہی دل کی گھبراہٹ بے اختیاری سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1484