Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6019

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهٖ وَمَالِهٖ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدَ الْبُخَارِيِّ أَبَا بَكْرٍوَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلٰكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهٗ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن من أمن الناس علي في صحبته وماله أبو بكر وعند البخاري أبا بكرولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ولكن أخوة الإسلام ومودته لا تبقين في المسجد خوخة إلا خوخة أبي بكر» . وفي رواية: «لو كنت متخذا خليلا غير ربي لاتخذت أبا بكر خليلا» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ سارے انسانوں میں مجھ پر بڑا احسان کرنے والے اپنی صحبت اپنی محبت و مال میں ابوبکر ہیں ۱؎اور بخاری کے نزدیک ابابکر ہے اور اگر میں کسی کو دلی دوست بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا۲؎لیکن اسلام کا بھائی چارا اور اس کی دوستی ہے ۳؎مسجد میں کوئی کھڑکی نہ رکھی جاوے سواء ابوبکر کی کھڑکی کے۴؎دوسری روایت میں یوں ہے کہ اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو دوست بناتا۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا مال جان،اولاد وطن سب کچھ حضور پر قربان کردیا،غار ثور میں ہجرت کی رات اپنی جان حضور پر فدا کی کہ سانپ سے کٹوا لیا،اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ کا نکاح حضور انور سے کیا جب آپ کی عمر چھ سال تھی اور حضور کی عمر ۴۵ سال حالانکہ آپ جانتے تھے کہ جب حضور کا وصال ہوگا تو حضرت عائشہ عین جوانی میں ہوں گی،آپ کے بعد نہ آپ کو میراث ملے گی نہ آپ کا نکاح کسی سے ہوسکے گا،یہ ہے اولاد کی قربانی۔جس وقت آپ ایمان لائے تو چالیس ہزار دینار اشرفیاں آپ کے پاس تھیں جو سب حضور پر خرچ کیں،وفات کے وقت کفن کے لیے کپڑا بھی نہ تھا پرانے کپڑوں میں کفن دیا گیا،حضور نے فرمایا کہ صدیق کا احسان مجھ پر بڑا ہے؎آن امن الناس برمولائے ما آں کلیمے اول سیناما
مسجد نبوی شریف کی اصل زمین حضرت ابوبکر صدیق نے دس دینار میں خرید کر وقف کی(ابن ماجہ کا حاشیہ ص ۵۴)بعد میں حضرت عثمان نے آس پاس کی زمین خرید کر ملحق کی۔
۲
؎خلیل یا تو بنا ہے خلت خ کے پیش سے بمعنی دلی دوست جس کی محبت دل کی گہرائی میں اتر جاوے،حضور کا ایسا محبوب صرف اللہ ہی ہے،یا بنا ہے خلت خ کے فتحہ سے بمعنی حاجت یعنی وہ دوست جس پر توکل کیا جاوے اور ضرورت کے وقت اس سے مشکل کشائی حاجت روائی کرائی جاوے،حضور انور کا ایسا کار ساز حاجت روا محبوب سواء خدا کے کوئی نہیں ورنہ اصل محبت حضور کو جنا ب صدیق سے بہت ہی ہے۔
۳
؎یعنی ہم مطلقًا محبت کی نفی نہیں کر رہے ہیں محتاجی حاجت روائی کی محبت کی نفی ہے یا جگری و دلی محبت کی جو صرف ایک سے ہی ہوسکتی ہے،ایمانی محبت ان سے علی وجہ الکمال ہے۔خیال رہے کہ حضرت صدیق نے کبھی حضور کو بھائی کہہ کر پکارا نہیں کہ یہ حرام ہے"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"الخ۔
۴
؎خوخۃبمعنی کھڑکی یا بمعنی چھوٹا دروازہ۔جن صحابہ کرام کے مکانات مسجد کے متصل تھے انہوں نے اپنے گھروں کی دیواروں میں مسجد کی طرف روشندان اور چھوٹے دروازے رکھے تھے کہ روشندانوں سے حضور کو دیکھ لیا کریں اور آسانی سے مسجد میں آتے جاتے رہیں ان سب کے بند کردینے کا حکم دیا سواء صدیق اکبر کے دروازے کے۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کے دو گھر تھے ایک مسجد شریف سے متصل دوسرا مقام سخ میں۔یہ اس کھڑکی کا ذکر ہے جو مسجد سے ملے ہوئے مکان میں تھی،ابباب الصدیقاس مکان کی یادگار ہے لہذا مرقات کا یہ فرمانا کہ آپ کا گھر تو مقام سخ میں تھا پھر کھڑکی مسجد نبوی کی طرف کیسی اور اس کی تاویل خلافت سے کرنا کچھ قوی نہیں۔
۵
؎خیال رہے کہ آپ کا نام عبداللہ ہے اور کنیت ابوبکر ہے،ابو کے معنی ہیں والا جیسے ابوہریرہ بلی والے،بکر کے معنی ہیں اولیت، اسی سے ہے بکرہ باکرہ اور باکور،ابوبکر کے معنی ہوئے اولیت والے۔چونکہ آپ ایمان ہجرت حضور کی وفات کے بعد وفات میں اور قیامت کے دن قبر کھلنے وغیرہ سب کاموں میں آپ ہی اول ہیں اس لیے آپ کو ابوبکر کہا گیا رضی اللہ عنہ۔یہ بھی خیال رہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد حضور نے حضرت علی کے متعلق یہ ارشاد فرمایا تھا کہ مسجد میں صرف علی کی کھڑکی رہے جس پر جناب حمزہ نے شکایت کی تھی کہ یارسول اللہ آپ نے اپنے چچا کو تو اس کی اجازت نہیں دی اور چچا زاد بھائی کو اجازت دے دی،فرمایا کہ میں نے نہیں حکم دیا بلکہ یہ حکم الٰہی ہے اور حضرت صدیق اکبر کو یہ اجازت وفات شریف سے تین دن پہلے دی ہے جو یہاں مذکور ہے۔(اشعۃ اللمعات)مرقات میں بھی اس کے قریب قریب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6019