Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6032

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تُنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتّٰى أُحْشَرَبَين الْحَرَمَيْنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنا أول من تنشق عنه الأرض ثم أبو بكر ثم عمر ثم آتي أهل البقيع فيحشرون معي ثم أنتظر أهل مكة حتى أحشربين الحرمين» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس سے زمین کھولی جاوے گی پھر ابوبکر پھر عمر ۱؎پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ جمع کیے جائیں گے پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا ۲؎حتی کہ ہم دونوں حرموں کے درمیان حشر کیے جائیں گے۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قیامت میں جب دوسری بار صور پھونکا جاوے گا تو پہلے قبر انور ہماری پھٹے گی ہم اٹھیں گے پھر ترتیب وار ان دونوں بزرگوں کی۔خیال رہے کہ ان دونوں بزرگوں کی اولیت یا تو اس امت کے لحاظ سے ہے یا ساری امتوں کے اولیاء کے لحاظ سے۔ (مرقات)ورنہ پہلے حضور کی قبر انور کھلے گی پھر دوسرے نبیوں کی قبور مگر گروہ اولیاء اللہ میں پہلے ان دونوں بزرگوں کی۔
۲
؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور جنت بقیع والے مؤمنوں کے پاس خود تشریف لے جائیں گے پھر یہاں ہی مکہ کے جنت معلے کے مدفونین کا انتظار کریں گے،وہ لوگ یہاں ہی پہنچیں گے،پھر یہاں ہی حضور انور فلسطین کی زمین کی طرف چلیں گے جہاں محشر قائم ہوگی مگر بعض روایات میں ہے کہ یہ اجتماع حرمین طیّبین کے درمیان ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور انور ادھر سے مکہ والوں کے لیے چلیں گے ادھر سے مکہ والے حضور انور کی طرف درمیان میں ملاقات ہوگی مگر پہلی روایت قوی ہے کہ اہل مکہ مدینہ منورہ میں پہنچے گے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ حرمین طیّبین کی زمین میں دفن ہونا بڑی ہی خوش نصیبی ہے۔اللہ تعالٰی زمین مدینہ میں دفن نصیب کرے مجھے اور حضور کے سارے غلاموں کو۔شعر
کعبہ کے صدقہ دل کی تمنا مگر یہ ہے
مرنے کے وقت منہ ہودشد کی طرف
اگر ایسی موت آئے تو کیا پوچھنا میرا
ہوں خاک پر نگاہ دریار کی طرف
خیال رہے کہ ان دونوں قبرستانوں کے مدفون تو حضور کیساتھ یہاں ہی جمع ہوجائیں گے،دوسرے مسلمان محبت والے شام کی زمین یعنی محشر میں حضور انورکے ساتھ ہوجائیں گے۔حضور فرماتے ہیں
من احب قوما حشر معھمجو جس قوم سے محبت کرے گا اسی کے ساتھ اس کا حشر ہوگا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6032