Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6025

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهٗ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثم عُثْمَانُ رَضِي الله عَنْهُم

وعن ابن عمر قال: كنا في زمن النبي صلى الله عليه وسلم لا نعدل بأبي بكر أحدا ثم عمر ثم عثمان ثم نترك أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم لا نفاضل بينهم. رواه البخاري وفي رواية لأبي داود قال: كنا نقول ورسول الله صلى الله عليه وسلم حي: أفضل أمة النبي صلى الله عليه وسلم بعده أبو بكر ثم عمر ثم عثمان رضي الله عنهم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابوبکر کے برابر کسی کو نہ سمجھتے تھے پھر عمر کو پھر عثمان کو ۱؎پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو رہنے دیتے ان میں کسی کی بزرگی بیان نہ کرتے ۲؎(بخاری)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا ہم کہتے تھے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ کے بعد ابوبکر ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ پھر عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین۳؎

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ یہ تینوں حضرات سید سیدہ تجربہ کار اور حضور انور کے مشیر خاص اور راز دار تھے ان کی عظمت لوگوں کے دلوں میں قدرتی طور پر جاگزین تھی۔
۲
؎یعنی ان تینوں صاحبوں کی سی بزرگی کسی اور صحابی کو نہ دیتے تھے۔خیال رہے کہ حضرت علی کا شمار اہل بیت نبی میں ہے اسی لیے ان کا ذکر نہ فرمایا۔یہاں ذکر صحابہ کا ہے کہ صحابہ میں ہم یہ ترتیب رکھتے تھے،نیز حضور کے زمانہ میں حضرت علی بہت کم سن تھے اور وہ تین حضرات شیوخ میں سے تھے ورنہ حضرت عمر کا عقیدہ تھا کہ اہل بدر،اہل بیعۃ رضوان اور علماء صحابہ ان کے مجتہد ہیں دوسرے صحابہ سے افضل ہیں خصوصًا حضرت علی بہت افضل واعلیٰ ہیں۔(مرقات)لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ آپ نے حضرت علی اصحاب بدر،عشرہ مبشرہ،بیعۃالرضوان والے صحابہ کا ذکر کیوں نہیں کیا۔(مرقات)
۳
؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ کسی صحابی کو ان تین جیسی فضیلت ہم نہیں دیتے تھے بقیہ حضرات کی اپنی اپنی فضیلت مسلم ہے۔خیال رہے کہ حضرت علی میں رب نے دو بزرگیاں جمع فرمائی ہیں: صحابیت اور حضور کا اہل بیت میں سے ہونا،آپ کے گھر میں حضور نے اور حضور کی گود میں آپ نے پرورش پائی،غسل ولادت حضور نے جناب علی کو دیا اور غسل وفات جناب علی نے حضور کو دیا،ادھر چار یار میں داخل اور ادھر پنج تن پاک میں شامل رضی اللہ عنہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6025