Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6023

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهٗ عَلٰى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: فَأَتَيْتُهٗ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ» . قُلْتُ: مِنِ الرِّجَالِ؟قَالَ:«أَبُوهَا».قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «عُمَرُ». فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه على جيش ذات السلاسل قال: فأتيته فقلت: أي الناس أحب إليك؟ قال: «عائشة» . قلت: من الرجال؟قال:«أبوها».قلت: ثم من؟ قال: «عمر». فعد رجالا فسكت مخافة أن يجعلني في آخرهم. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذات سلاسل کے لشکر پر امیر بنا کر بھیجا ۱؎فرماتے ہیں کہ میں حضورکے پاس آیا میں نے کہا لوگوں میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے فرمایا عائشہ میں نے کہا مردوں میں فرمایا ان کے والد ۲؎میں نے عرض کیا پھر کون فرمایا عمر پھر حضور نے چند حضرات گنائے تو میں چپ ہوگیا اس خوف سے کہ مجھے ان سب کے آخر میں کردیں۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ذات سلاسل مدینہ منورہ سے دس روز کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے یا تو یہاں مشرکین نے مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنے کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا تاکہ بھاگ نہ سکیں،یا وہاں ایک کنویں کا نام سلاسل ہے جیسے آج خیبر کے راستہ میں ایک منزل کا نام سلسلہ ہے یا وہاں کا ریتہ زنجیروں کی طرح ہے ان وجوہ سے اسے ذات سلاسل کہتے ہیں۔پہلے حضور نے حضرت عمرو ابن عاص کو تین سو صحابہ پر امیر بنا کر وہاں بھیجا انہوں نے حضور سے کمک طلب کی تو ایک اور جماعت صحابہ بھیجی جس میں حضرت ابوبکر و عمر اور ابوعبیدہ ابن جراح بھی تھے،حضرت عمرو ابن عاص نے جو دیکھا کہ حضور انور نے مجھے آج حضرت صدیق و فاروق پر بھی امیر بنا دیا تب واپسی پر یہ سوال کیا جو یہاں مذکور ہے وہ سمجھے کہ میں ان بزرگوں سے بھی افضل ہوں۔(اشعہ)
۲
؎محبت کی بہت قسمیں ہیں: ایک محبت عائشہ صدیقہ سے زیادہ ہے دوسری قسم کی محبت حضرت فاطمہ سے زیادہ لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ اس سوال کے جواب میں فرمایا مجھے بہت پیاری فاطمہ زہرا ہیں اور مردوں میں انکے خاوند۔
۳
؎یعنی میں تو اس خیال میں تھا کہ چونکہ حضور انور نے مجھے اس لشکر کا امیر بنایا جس میں حضرت صدیق و فاروق سپاہیانہ شان سے تھے لہذا میں ان سے بھی افضل ہوؤں گا مگر پتہ لگا کہ میں تو ان سے بہت ہی فاصلہ پر ہوں ایسا نہ ہو کہ میری باری سب سے آخر میں آئے اس لیے میں پوچھنے سے باز رہا تاکہ پردہ ہی رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6023