Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6029

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهٗ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن عائشة قالت:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينبغي لقوم فيهم أبو بكر أن يؤمهم غيره» . رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس قوم میں ابوبکر ہوں انہیں یہ لائق نہیں کہ ان کی امامت ابوبکر کے سوا کوئی اور کرے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎مرض وفات شریف میں جب شدت ہوئی اور حضور انور نماز کے لیے مسجد تشریف نہ لاسکے تب حکم دیا کہ میری جگہ جناب ابوبکر نماز پڑھائیں،حضرت عائشہ صدیقہ نے حضرت عمر کو امام بنانے کی رائے دی تو آپ نے ان کے جواب میں یہ فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ جناب صدیق اکبر کو اپنی جگہ مصلےٰ پر کھڑا فرمانا اتفاقًا نہ تھا بلکہ کسی حکمت اور وجہ سے تھا۔اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرت صدیق اکبر کا یہ انتخاب امامت کبریٰ یعنی خلافت کے لیے دلیل بنانا تھا اس کی تمہید تھی۔دوسرے یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق تمام صحابہ سارے اہل بیت سے افضل بھی ہیں اور زیادہ عالم بھی کیونکہ امام اسی کو بنایا جاتا ہے جو سب سے زیادہ عالم اور افضل ہو،معراج میں سارے نبیوں کی امامت حضور انور نے کی سب نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی کیونکہ آپ ان سب حضرات سے افضل اور بڑے عالم تھے۔تیسرے یہ کہ امامت نماز میں عالم قاری پر مقدم ہوگا دیکھو تمام صحابہ میں بڑے قاری حضرت ابی ابن کعب تھے مگر حضرت صدیق کو امام بنایا گیا جو بڑے عالم تھے لہذا مذہب حنفی قوی ہے کہ عالم قاری پر مقدم ہے۔خیال رہے کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضور کا حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم کو مسجد نبوی شریف میں کا امام بنانا اتفاقًا تھا وہاں یہ نہ فرمایا تھا کہ عبداللہ کے ہوتے کسی کو امامت کا حق نہیں لہذا ان دونوں امامتوں میں فرق ہے۔
۲
؎یہ حدیث امام ترمذی کو غریب ہوکر ملی صحابہ کرام کے لیے غریب نہ تھی اس وقت میں غریب بنانے والا راوی شامل نہیں ہوا تھا اس پر صحابہ کا عمل ہوچکا۔یہاں لمعات میں ہے کہ حضرت علی نے صدیق اکبر سے فرمایا کہ آپ کو رسول اللہ نے ہمارے دین میں ہمارا پیشوا بنادیا تو دنیا میں آپ کو پیچھے کرنے والاکون ہے۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6029