Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6033

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي يَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتّٰى أَنْظُرَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أتاني جبريل فأخذ بيدي فأراني باب الجنة الذي يدخل منه أمتي» فقال أبو بكر: يا رسول الله وددت أني كنت معك حتى أنظر إليه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أما إنك يا أبا بكر أول من يدخل الجنة من أمتي» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس جناب جبریل آئے میرا ہاتھ پکڑا پھر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہوگی ۱؎جناب ابوبکر نے کہا یارسول اللہ میری آرزو ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا۲؎حتی کہ اسے دیکھتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر تم وہ شخص ہو جو میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں جائے گا۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے یا کسی اور وقت کا۔(اشعۃ اللمعات)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور کی امت کے داخلہ کے لیے جنت میں علیحدہ دروازہ بنایا گیا ہے وہاں بھی امتیازی شان اس امت کی ہے یہ سب حضور کے صدقے سے ہے۔
۲
؎سبحان الله!کیسی پیاری تمنا ہے یعنی جب حضور وہ دروازہ دیکھنے گئے تو کاش میں بھی حضور کے ساتھ ہوتا اور وہ دروازہ دیکھتا۔
۳
؎یعنی اے ابوبکر اللہ نے تمہارے لیے اس سے اعلیٰ درجہ رکھا ہے وہ یہ کہ میری امت میں سب سے پہلے تم جنت میں جاؤ گے تمہارے بعد دوسرے لوگ۔خیال رہے کہ سب سے پہلے جنت میں حضور انور تشریف لے جائیں گے،پھر سارے نبی،پھر حضور انور کی امت،پھر دوسرے نبیوں کی امتیں اور اس امت میں سب سے پہلے ابوبکر صدیق تو لازم آیا کہ بعد انبیاء سب سے پہلے جناب صدیق اکبر جنت میں جائیں گے۔اس سے پتہ لگا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق بعد انبیاء ساری مخلوق سے افضل ہیں بعد انبیاء سب سے پہلے جنت میں داخلہ آپ کا ہی ہوگا۔
نوٹ ضروری: جنت میں ساری مخلوق سے پہلے حضرت بلال جائیں گے اس طرح کہ حضور کے داخلہ کے وقت آگے آگے بلال ہوں گے ہٹو بچو کرتے ہوئے جیسے غلام شاہوں کے آگے چلتے ہیں خادمانہ شان سے۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ اے بلال تم کونسی نیکی کرتے ہو کہ میں نے جنت میں تمہارے قدموں کی آہٹ اپنے آگے سنی وہاں وہ ہی آہٹ سنائی گئی جو قیامت کے بعد جنت کے داخلہ کے وقت حضور کے آگے آگے چلنے کی ہوگی مگر وہ خدمت گاری کی حیثیت ہے،جزا والا داخلہ پہلے وہاں حضرت ابوبکر صدیق کو میسر ہوگا لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔حضرت ادریس علیہ السلام جنت میں پہلے ہی پہنچے ہوئے ہیں یا آدم علیہ السلام پہلے وہاں رہ کر آئے ہیں مگر وہ داخلہ جزا کے لیے نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6033