Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6026

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبَابَكْرٍ فَإِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيهِ اللّٰهُ بِهَا يَومَ الْقِيَامَةِوَمَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا أَلَا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللّٰهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما لأحد عندنا يد إلا وقد كافيناه ما خلا أبابكر فإن له عندنا يدا يكافيه الله بها يوم القيامةوما نفعني مال قط ما نفعني مال أبي بكر ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ألا وإن صاحبكم خليل الله» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہم پر کسی کا احسان نہیں مگر ہم نے اس کا بدلہ کردیا ۱؎سوا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کہ ہم پر ان کا احسان ہے کہ اللہ انہیں اس کا بدلہ قیامت کے دن دے گا۲؎مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہ دیا جتنا ابوبکر کے مال نے نفع دیا۳؎اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا۴؎خیال رکھو کہ تمہارے صاحب اللہ کے دوست ہیں ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یہاں شخصی خدمات و احسانات کا ذکر ہے کہ جس شخص نے ہم سے کچھ سلوک کیا تھا ہم نے اس سے بڑھ کر بدلہ دے دیا۔ لہذا یہ حدیث اس فرمان کے خلاف نہیں کہ انصار کے احسانات و خدمات کا بدلہ نہ ہوسکا قیامت میں رب تعالٰی سے دلوایا جاوے گا کہ وہ قومی اور جماعتی احسان و خدمات ہیں،احادیث میں تعارض نہیں۔
۲
؎اس احسان سے یا تو وہ بدنی،مالی،وطنی اولادکی قربانیاں مراد ہیں جو حضرت صدیق اکبر برابر کرتے رہے یا حضرت بلال کو خرید کر آزاد کرنا مراد ہے کہ حضور نے فرمایا کہ صدیق نے مجھ پر احسان کیا کہ بلال کو آزاد کیا،رب نے فرمایا:"وَ سَیُجَنَّبُھَا الْاَتْقَی الَّذِیۡ یُؤْتِیۡ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی"کی آیت کریمہ میں اس آزادی بلال کا ذکر ہے۔(مرقات)حضرت بلال کی خریداری پر حضور نے صدیق اکبر کے لیے فرمایا تھا؎مصطفی گفتش کہ اے اقبال
جو در خریدن می شوم انباز تو
اے ابوبکر بلال کی خریداری میں ہم کو بھی اپنے ساتھ ملالو آدھی قیمت ہم سے لے لو ہم تم دونوں ان کے خریدار تو حضرت صدیق تڑپ گئے قدموں پر فدا ہو کر بولے
؎گفت ماد و بندگان کوئے تو
کرو مش آزاد ہم بروئے تو
حضور میں بھی آپ کا غلام بلال بھی آپ کے غلام،حضور میں نے انہیں آپ کے لیے خریدا ہے میں نے انہیں آزاد کردیا بلال نے جب چہرہ مصطفی دیکھا تو
؎چوں بدیدآں خستہ روئے مصطفی
خر مغشیا علیہ برقفا
چہرہ پاک دیکھتے ہی غش کھا کر گئے بے ہوش ہوگئے حضور نے اپنی چادر سے چہرہ کا گردو غبار صاف کیا اور فرمایا
اوذیت فی الله کثیرااے بلال تجھے اللہ کی راہ میں بڑی اذیتیں پہنچیں رضی اللہ عنہ،اے صدیق تم پر لاکھوں سلام کہ تم نے ہم سب مسلمانوں کے آقا حضرت بلال کو آزاد کیا تم نے ہمارے آقا حضرت بلال کو آزاد کیا تم ہمارے آقا کے آقا ہو۔
۳
؎چنانچہ جب ابوبکر صدیق ایمان لائے تو آپ کے پاس چالیس ہزار دینار تھے،آپ بڑے امیر کبیر تھے اتنی بڑی دولت حضور انور پر خرچ کردی۔بہت سے غریب مسلمان جو کفار کے غلام تھے بڑی مصیبت میں تھے انہیں خرید کر آزاد کیا ان سب میں حضرت بلال ابن ابی رباح اور مالک ابن فہیرہ بہت مشہور ہیں،جب ہجرت میں حضور کے ساتھ گئے تو چند درہم آپ کے ساتھ تھے وہ بھی حضور پر خرچ کرنے کے لیے ساتھ تھے۔
۴
؎صوفیاء کے نزدیک خلیل وہ ہے جس کی محبت میں دل رہے اور رفیق وہ ہے جس کی محبت دل میں رہے،کشتی دریا میں اور دریا کشتی میں فرق ہے۔
۵
؎صاحبکمسے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات مبارک ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6026