Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6030

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن عُمَرَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ وَوَافَقَ ذٰلِكَ عِنْدِي مَالًا فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهٗ يَوْمًا. قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي.فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» فَقُلْتُ: مِثْلَهٗ. وَأَتٰى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهٗ. فَقَالَ: « يَا أَبَا بَكْرٍ؟مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟ ».فَقَالَ:أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ. قُلْتُ:لَا أَسْبِقُهٗ اِلٰى شَيْءٍ أَبَدًا.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

وعن عمر قال: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نتصدق ووافق ذلك عندي مالا فقلت: اليوم أسبق أبا بكر إن سبقته يوما. قال: فجئت بنصف مالي.فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما أبقيت لأهلك؟» فقلت: مثله. وأتى أبو بكر بكل ما عنده. فقال: « يا أبا بكر؟ما أبقيت لأهلك؟ ».فقال:أبقيت لهم الله ورسوله. قلت:لا أسبقه الى شيء أبدا.رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا ۱؎اتفاقًا اس وقت میرے پاس مال بہت تھا تو میں نے سوچا کہ اگر میں کسی دن ابوبکر سے بڑھ سکا تو آج بڑھ جاؤں گا۲؎فرماتے ہیں کہ میں اپنا آدھا مال لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے بال بچوں کے لیے کیا چھوڑا میں نے کہا کہ اتنا ہی اور ابوبکر سارا وہ مال لے آئے جو ان کے پاس تھا۳؎فرمایا اے ابوبکر تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا رکھا عرض کیا کہ میں نے انکے لیے اللہ رسول کو رکھا میں نے سوچا کہ میں کسی چیز کی طرف ان سے آگے نہ بڑھ سکوں گا۴؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎غزوہ تبوک کے موقعہ پر یہ حکم ہوا تھا۔
۲
؎حضرت عمر کا گمان یہ تھا کہ صدقہ میں سبقت زیادتی مال سے ہوتی ہے اور مال تو میرے پاس زیادہ ہے لہذا میں ہی آج بڑھ جاؤں گا مگر بعد میں پتہ لگا کہ صدقہ میں سبقت اخلاص کی زیادتی سے ہوتی ہے،کثرت اور برکت میں فرق ہے۔
۳
؎سارے مال کی خیرات حضرت صدیق اکبر کی خصوصیت ہے ان کی اور ان کے بال بچوں کی طرح متوکل نہ کوئی ہوگا نہ سارا مال خیرات کرے گا۔ہم جیسوں کو بعض مال خیرات کرنے کا حکم ہے"اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰکُمۡ"مماکامنبعضیت کا ہے۔ اگر ہم سارا مال خیرات کردیں تو اگرچہ ہم صبرکر جاویں مگر ہمارے بیوی بچے پیٹ پِیٹ کر مرجاویں۔خیال رہے کہ عابدوں کی نماز و زکوۃ اور ہے عاشقوں کی اور نوعیت کی،عارفوں کی اور طرح کی،عابدوں کی زکوۃ سال کے بعد چالیسواں حصہ عاشقوں کو زکوۃ اشارہ پا کر سارا مال،عابدوں کی نماز مسجدوں کی دیواروں کے سایہ میں،عاشقوں کی نماز تلواروں کے سایہ میں۔اس جواب سے معلوم ہوا اللہ رسول کے نام پر خیرات اللہ رسول پر توکل شرک نہیں عین ایمان ہے،کیا پیارا جواب ہے کہ میں نے گھر والوں کے لیے اللہ رسول کو چھوڑا معلوم ہوا کہ اللہ رسول کافی ہیں۔
۴
؎خیال رہے کہ حضرت ابوبکر کا یہ کل مال جناب عمر کے آدھے مال سے مقدار میں کم تھا مگر درجہ میں بہت زیادہ تھا قبولیت میں سب سے بڑھ کر تھا۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6030