Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4576

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ» قَالُوا: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا طيرة وخيرها الفأل» قالوا: وما الفأل؟ قال: «الكلمة الصالحة يسمعها أحدكم». (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بدفالی کچھ نہیں ۱∞؎بہترین چیز فال ہے لوگوں نے عرض کیا فال کیا چیز ہے فرمایا وہ اچھا لفظ جسے تم میں کوئی سنے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہاںطیرہسے مراد بدفالی لینا ہے خواہ پرندے سے ہو یا چرندہ جانور سے یا کسی اور چیز سے کیونکہ بدفالی مطلقًا ممنوع ہے،قرآن مجید میںتطیراورطائربمعنی بدفالی آیا ہے،رب فرماتاہے:"قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ"اور فرماتاہے:"قَالُوْا طَآىٕرُكُمْ مَّعَكُمْؕ"۔مقصد یہ ہے کہ اسلام میں بدفالی کوئی شیئ نہیں کسی چیز سے بدفالی نہ لو۔
۲
؎جیسے کوئی شخص کسی کام کو جارہا ہے کسی سے آواز آئی اےنجیحیا اے برکت یا اے رشیدیہ جانے والا یہ الفاظ سن کر کامیابی کا امیدوار ہوگیا یہ بالکل جائز ہے۔بعض دکاندار صبح کویارزاق،گمشدہ کے متلاشییا واجد،مسافر لوگیا سالم،حاجی و غازی لوگیا منصوریا مبروراور زائر لوگیا مقبولسن کر خوش ہو جاتے ہیں یہ سب اسی حدیث سے ماخوذ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4576