Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4591

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأٰى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ ". رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

عن عروة بن عامر قال: ذكرت الطيرة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " أحسنها الفأل ولا ترد مسلما فإذا رأى أحدكم ما يكره فليقل: اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بالله ". رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عروہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شگون کا ذکر کیا گیا ۱∞؎تو فرمایا ان میں اچھی فال ہے اورکسی مسلمان کو نہ لوٹائے ۲؎تو جب تم میں سے کوئی وہ دیکھے جسے ناپسند کرتا ہو تو کہہ دے الٰہی بھلائیاں تیرے سوا کوئی نہیں لاتا اور برائیاں تیرے سوا کوئی نہیں دور کرتا، نہیں ہے طاقت اور نہیں ہے قوت مگر اللہ سے ۳؎(ابوداؤد ارسالًا)

شرح حدیث

۱∞؎کہ لوگ بعض چیزوں سے بدشگونی لیتے ہیں بعض سے اچھا شگون اس کی حقیقت کیا ہے تب حضور نے وہ جواب دیا جو یہاں مذکور ہے۔
۲
؎فال سے مراد نیک فال ہے جو اچھی بات اچھا نام سننے سے لی جائے یعنی یہ جائز ہے لیکن کوئی شخص کسی کام کو جاتے وقت ناپسندیدہ چیز دیکھے یا سنے جس سے بدشگونی لی جائے تو وہ محض اس وجہ سے اپنے کام سے واپس نہ ہو،اللہ پر توکل کرے اور کام کو جائے۔
۳
؎یہ عمل بہت ہی مجرب ہےان شاءاللهاس دعا کی برکت سے کوئی بری چیز اثر نہیں کرتی تمام مروجہ بدفالیوں بدشگونیوں کا بہترین علاج ہے۔والله اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4591