Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4589

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثُرَ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا فَتَحَوَّلْنَا إِلٰى دَارٍ قَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « ذَرُوهَا ذَمِيمَةً » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أنس قال: قال رجل: يا رسول الله إنا كنا في دار كثر فيها عددنا وأموالنا فتحولنا إلى دار قل فيها عددنا وأموالنا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « ذروها ذميمة » . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ہم ایک گھر میں تھے جس میں ہماری تعداد اور ہمارے مال زیادہ ہوگئے پھر ہم دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے جس میں ہماری تعداد و مال گھٹ گئی تو فرمایا اسے برا کر کے چھوڑ دو ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کی بہت حکمتیں ہیں: ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ اس زمین میں رہتے تو ہر وقت ان کے دلوں میں وسوسہ آتے دلوں کو سکون و چین میسر نہ ہوتا نہ معلوم کب کیا مصیبت آجائے گی گویا اس زمین کا چھوڑنا ان حضرات کے سکون قلبی کا ذریعہ تھا جس سے انہیں عبادات میں لذت ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4589