Main Icon

باب:اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4667

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَتَانَا أَبُو مُوسٰى قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهٗ فَأَتَيْتُ بَابَهٗ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ. فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ فَسَلَّمْتُ عَلٰى بَابِكَ ثَلَاثًا فَلَمْ تَرُدُّوْا عَلَيَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهٗ فَلْيَرْجِعْ. فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ. قَالَ أَبُو سَعِيْدٍ: فَقُمْتُ مَعَهٗ فَذَهَبْتُ إِلٰى عُمَرَ فَشَهِدْتُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي سعيد الخدري قال: أتانا أبو موسى قال: إن عمر أرسل إلي أن آتيه فأتيت بابه فسلمت ثلاثا فلم يرد علي فرجعت. فقال: ما منعك أن تأتينا؟ فقلت: إني أتيت فسلمت على بابك ثلاثا فلم تردوا علي فرجعت وقد قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع. فقال عمر: أقم عليه البينة. قال أبو سعيد: فقمت معه فذهبت إلى عمر فشهدت(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ابوموسیٰ آئے بولے کہ حضرت عمر نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں ان کے پاس آؤں تو میں ان کے دروازے پر آیا میں نے تین بار سلام کیا ۱∞؎انہوں نے جواب نہ دیا تو میں لوٹ گیا ۲؎انہوں نے فرمایا کہ تم کو ہمارے پاس آنے سے کس نے روکا ۳؎میں نے کہا کہ میں آیا تھا آپ کے دروازے پر تین بار سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا ۴؎تو میں لوٹ گیا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے پھر اسے اجازت نہ دی جاوے لوٹ جاوے ۵؎حضرت عمر نے فرمایا کہ اس پر گواہی قائم کرو ۶؎ابو سعید کہتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ اٹھا اور حضرت عمر کی طرف گیا پھر میں نے گواہی دی ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب میں حضرت عمر کے دروازے پر آیا تو میں نے تھوڑی تھوڑی دیر ٹھہر کر تین بار کہا السلام علیکم یہ سلام استیذان ہے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ داخلہ کی اجازت مانگنے کے لیے صرف سلام کرنا بھی کافی ہے اور یہ بھی کہالسلام علیکمکیا آجاؤں،چونکہ حضرت عمر مکان میں تھے جو زنانہ تھا اس لیے اجازت مانگنے کی ضرورت ہوئی اگر مردانہ میں ہوتے تو بلانا ہی کافی تھا جسے بلایا جاوے اس کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی جیساکہ آگے آوے گا۔
۲
؎دروازہ پیٹا نہیں آج آنے والے اگر اجازت نہ پائیں تو دروازہ توڑ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اسلامی احکام سے خبردار نہیں۔
۳
؎یا تو میرے لوٹتے ہی مجھے خادم کے ذریعہ بلوا کر یہ کہا یا جب میں کسی اور موقعہ پر حاضر ہوا تب یہ فرمایا پہلے معنی زیادہ موزوں ہے۔
۴
؎یعنی گھر سے جواب سلام نہ ملا نہ آپ نے جواب دیا نہ آپ کے اہلِ خانہ میں سے کسی نے اس لیے میں واپس گیا۔
۵
؎گھر والا پہلے سلام پر تو پہچانے کون ہے،دوسرے سلام پر غور کرے کہ اسے اجازت دوں یا نہ دوں،تیسرے سلام پر اجازت دے یا نہ دے ان تین سلاموں میں یہ حکمت ہے۔
۶
؎اس گواہی مانگنے میں حکمت یہ تھی کہ لوگ حدیث بیان کرنے پر دلیر نہ ہوجاویں یا حدیثیں گھڑنے نہ لگیں،نہ تو یہ وجہ تھی کہ ان صحابی پر آپ کو اعتماد نہ تھا،نہ یہ کہ خبر واحد قبول نہیں کیونکہ دو شخصوں کی خبر بھی واحد ہی ہوتی ہے،حد تواتر سے کم کی خبر خبر واحد ہے۔(مرقات)مطلب یہ ہے کہ کوئی اور صحابی ایسا پیش کرو جس نے حضور انور سے یہ فرمان سنا ہو۔
۷
؎یعنی میں نے حضرت عمر کے پاس جا کر عرض کیا کہ میں نے بھی یہ فرمان عالی حضور انور سے سنا ہے تب آپ خاموش ہوگئے،اسی وجہ سے حضرت امیر معاویہ نے فرمایا تھا کہ جو احادیث عہد فاروقی کے بعد شائع ہوئیں ہم انہیں قبول نہ کریں گے کیونکہ حضرت عمر کی سی احتیاط بعد میں نہ رہی،خلافت حیدری میں روافض و خوارج کا ظہور ہوا،روافض نے حضرت علی کے فضائل میں،خوارج نے آپ کے خلاف حدیثیں گھڑنا شروع کردی تھیں،پھر محدثین نے جرح و تعدیل کرکے احادیث کو چھانٹا اسنادیں قائم کیں،سندوں میں جرح و قدح کی،کھرے کھوٹے کو الگ کرکے دکھادیا رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4667