Main Icon

باب:اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4669

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلٰى أَبِي فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ: مَنْ ذَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا. فَقَالَ: أَنَا أَنَا كَأَنَّهٗ كَرِهَهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في دين كان على أبي فدققت الباب فقال: من ذا؟ فقلت: أنا. فقال: أنا أنا كأنه كرهها (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قرض کے بارے میں آیا جو میرے باپ پر تھا ۱∞؎میں نے دروازہ بجایا فرمایا یہ کون ہے میں نے کہا کہ میں،تو فرمایا کہ میں میں کیا غالبًا حضور نے اسے ناپسند کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جناب عبداللہ یعنی حضرت جابر کے والد مقروض تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوگئے،حضرت جابر اس کے متعلق دعا کرانے یا قرض خواہوں سے سفارش کے لیے حاضر بارگاہ ہوئے تھے،یہ حدیثان شاءالله باب المعجزاتمیں آوے گی۔
۲
؎معلوم ہوا کہ آنے والا پوچھنے پر اپنا نام لے صرف میں نہ کہہ دے کہ میں سب ہیں،اس سے گھر والے کو پہچان نہیں ہوتی کہ کون اجازت مانگ رہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4669