Main Icon

باب:اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4668

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِيْ حَتّٰى أَنْهَاكَ

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: إذنك علي أن ترفع الحجاب وأن تسمع سوادي حتى أنهاك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے میرے پاس آنے کی اجازت یہ ہے کہ تم پردہ اٹھا دو اور یہ کہ میری بھنک سنو ۱ ∞؎حتی کہ میں تم کو منع کردوں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تم بغیر آواز دیئے دروازہ کا پردہ اٹھاؤ گھر میں آجاؤ اگرچہ میں کسی سے خفیہ بات کررہا ہوں تم کو اجازت ہے کہ آجاؤ میری وہ بات سن لو،یہ آپ کی نہایت اہم خصوصیت ہے کہ آستانہ عالیہ میں ایسے باریاب ہیں رضی اللہ عنہ۔چونکہ آپ حضور انور کے خادم خاص تھے اور خصوصی خدام جنہیں بار بار گھر میں آنا جانا رہتا ہے انہیں ہر دفعہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں کہ اس پابندی میں تکلیف ہوگی انہیں بھی اور گھر والوں کو،بھی حضور کا یہ فرمان ان کے لیے دائمی اجازت ہوگیا۔خیال رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابن مسعود سے ازواج پاک پردہ نہیں کرتی تھیں کیونکہ مکان سے مردانہ مکان مراد ہے نہ کہ زنانہ یا یہ فرمان عالی پردہ فرض ہونے سے پہلے ہے۔(مرقات)سوادسین کے کسرہ سے،خفیہ آواز یعنی بھنک۔
۲
؎یعنی اگر کسی وقت میں تم کو آتے ہوئے اشارۃً منع کردوں تب نہ آنا وہ کوئی خاص صورت ہوگی گویا یہ عمومی اجازت ہے وہ خصوصی ممانعت ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4668