Main Icon

باب:باری کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3229

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ،وَكَانَ يَقْسِمُ مِنْهُنَّ لِثَمَانٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن عباس: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم قبض عن تسع نسوة،وكان يقسم منهن لثمان. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے نو بیویاں چھوڑ کر وفات پائی ۱؎جن میں سے آٹھ کے لیے باریاں مقرر فرماتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎(۱)حضرت عائشہ(۲)حفصہ(۳)سودہ(۴)ام سلمہ(۵)صفیہ(۶)میمونہ(۷)ام حبیبہ(۸)زینب(۹)جویریہ،یہ بیویاں حضور صلی اللہ علیہ سلم کی وفات کے وقت موجود تھیں،حضرت خدیجہ پہلے ہی وفات پاچکی تھیں،اہمہ بنت جوں،اور عائشہ خثعمیہ وغیرہ کو طلاق ہوچکی تھی۔
۲
؎اس کی وجہ آگے آرہی ہے کہ بی بی سودہ نے اپنی باری حضرت عائشہ صدیقہ کو بخش دی تھی اس لیے ان کے ہاں دو دن قیام رہتا تھا،باقی سات کے ہاں ایک ایک دن،اور دورہ جناب عائشہ صدیقہ پر ختم ہوتا تھا۔یہ باریاں مقرر فرمانا آپ پر شرعًا واجب نہ تھا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَتُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ"۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3229