Main Icon

باب:باری کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3231

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: "أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعنها: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسأل في مرضه الذي مات فيه: "أين أنا غدا؟ أين أنا غدا؟ يريد يوم عائشة، فأذن له أزواجه يكون حيث شاء، فكان في بيت عائشة حتى مات عندها. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم اپنے اس مرض میں پوچھتے تھے جس میں آپ کی وفات ہوئی کہ ہم کل کہاں رہیں گے ہم کل کہاں رہیں گے ۱؎حضر ت عائشہ کا دن ڈھونڈتے تھے پھر تمام ازواج پاک نے آپ کو اجازت دے دی کہ حضور جہاں چاہیں رہیں۲؎چنانچہ آپ حضرت عائشہ کے مکان میں رہے حتی کہ انہیں کے ہاں وفات پائی ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کل ہمارا قیام کس بی بی صاحبہ کے ہاں ہوگا اور عائشہ کی باری کب آئے گی رضی اللہ تعالٰی عنہن کیونکہ جناب عائشہ صدیقہ سے بے پناہ محبت تھی،یہ ہے حضور انور کا عدل و انصاف،جب اتنا کرے تو چند بیبیاں رکھے۔آج مسلمانوں نے چار بیویوں کی اجازت کی آیت تو پڑھ لی،عدل کی آیت سے آنکھیں بند کرلی ہیں،آج جس قدر ظلم مسلمان اپنی بیویوں پر کررہے ہیں،اس کی مثال نہیں ملتی، نبی کی تعلیم کیا ہے اور امت کا عمل کیا۔عبہ بین تفاوت راہ از کجا است تابہ کجا۔
۲
؎یہ ان پاک بیویوں کا انتہائی ادب ہے ورنہ وہ تمام جانتیں تھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر تشریف لے جانا چاہتے ہیں۔
۳
؎آپ ہی کی باری میں آپ ہی کے گھر میں آپ کے سینہ انور پر وفات پائی،اور آپ ہی کے گھر میں تاقیامت آرام فرماہوئے۔
جس کا پہلو ہے نبی کی آخری آرام گاہ جس کے حجرے میں نبی ہیں تاقیامت جاگزیں

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3231