Main Icon

باب:باری کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3237

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَطَاءَ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيْ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ فَقَالَ: هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا بِهَا، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ كَانَ يَقْسِمُ مِنْهُنَّ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ، قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْسِمُ لَهَا بَلَغَنَا.أَنَّهَا صَفِيَّةُ، وَكَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوتًا، مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَقَالَ رَزِينٌ: قَالَ غَيْرُ عَطَاءٍ: هِيَ سَوْدَةُ وَهُوَ أصَحُّ، وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ حِينَ أَرَادَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ لَهُ: أَمْسِكْنِي قَدْ وَهَبْتُ يَومِي لعَائِشَةَ لَعَليِّ ... أَكُونُ مِنْ نِسَائِكَ فِي الْجَنَّةِ.

عن عطاء قال: حضرنا مع ابن عباس في جنازة ميمونة بسرف فقال: هذه زوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فإذا رفعتم نعشها فلا تزعزعوها ولا تزلزلوها وارفقوا بها، فإنه كان عند رسول الله صلى الله عليه وسلم تسع نسوة كان يقسم منهن لثمان، ولا يقسم لواحدة، قال عطاء: التي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقسم لها بلغنا.أنها صفية، وكانت آخرهن موتا، ماتت بالمدينة. متفق عليه.
وقال رزين: قال غير عطاء: هي سودة وهو أصح، وهبت يومها لعائشة حين أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم طلاقها فقالت له: أمسكني قد وهبت يومي لعائشة لعلي ... أكون من نسائك في الجنة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء ۱؎سے فرماتے ہیں کہ ہم جناب ابن عباس کے ساتھ بی بی میمونہ کے جنازہ میں مقام سرف میں ۲؎حاضر ہوئے آپ نے فرمایا یہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی پاک ہیں تو جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو نہ انہیں ہلاؤ نہ جھٹکادو۳؎ان پر بہت نرمی کرو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس نو بیویاں تھیں جن میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر فرماتے تھے اور ایک کے لیے باری مقرر نہ کرتے تھے ۴؎حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ہم کو اطلاع پہنچی ہے کہ جن کے لیے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم باری مقرر نہ فرماتے تھے وہ بی بی صفیہ تھیں۵؎انہیں کی وفات سب سے آخر میں ہوئی جو مدینہ پاک میں فوت ہوئیں ۶؎(بخاری مسلم)اور رزین فرماتے ہیں کہ عطاء کے علاوہ دیگر علماء نے فرمایا کہ وہ سودہ تھیں یہ ہی زیادہ صحیح ہے انہوں نے اپنا دن بی بی عائشہ کو دے دیا تھا جب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں طلاق دینا چاہا تو آپ بولیں مجھے رکھیئے میں اپنا دن بی بی عائشہ کو دیتی ہوں تاکہ میں جنت میں آپ کی ازواج میں سے ہوں ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎عطاء چند ہیں اور سب تابعین ہیں،یہ عطاء ابن ابی رباح ہیں،حضرت عبداابن عباس سے زیادہ تر روایات ان ہی عطاء کی آتی ہیں۔(اشعہ)
۲
؎حضرت میمونہ بنت حارث بلالیہ رضی اللہ عنہا سیدنا عبدابن عباس کی خالہ ہیں،آپ کا نکاح بھی مقام سرف میں ہوا،زفاف بھی وفات بھی اور اسی مقام سرف میں آپ کی قبر شریف ہے،سرف مکہ معظمہ سے ایک منزل فاصلہ پر مقام تنعیم سے قریب ہے،آپ کی وفات ۵۱ھ؁ ∞ میں ہوئی آپ کے نکاح کا عجیب واقعہ ہے کہ آپ اپنے اونٹ پر سوار تھیں،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا خطبہ آپ کے کان میں پڑا تو بولیں کہ اونٹ اور اونٹ پر کی ساری چیزیں رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی ملک ہوگئیں،پھر آپ کا نکاح ہوا۔(مرقات و اشعہ)
۳
؎زعزعہ اور زلزلہ قریبًا ہم معنی ہیں،مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانوں یہ تمہاری والدہ محترم ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ،ان کی نعش مبارک بڑے ادب و احترام سے لے جاؤ، معلوم ہوا کہ بزرگوں کا ادب و احترام بعد وفات بھی چاہیے،فقہا فرماتے ہیں کہ زیارت قبر کے وقت صاحب قبر سے اتنی ہی دور اور اسی طرح بیٹھے جیسے اس کی زندگی میں بیٹھتا تھا اور فرماتے ہیں کہ روضہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم پر صلو ۃ وسلام کے لیے اپنے ہاتھ باندھ کر باادب کھڑا ہو،جیسے نماز میں کھڑ اہوتاہے۔ (عالمگیری وغیرہ)
۴
؎کیونکہ انہوں نے اپنی باری بی بی عائشہ صدیقہ کو بخش دی تھی جیسا کہ گزر چکا۔
۵
؎بعض نے فرمایا یہ محض غلط ہے اور غلطی ابن جریج کی طرف سے ہے۔مگر قاضی عیاض نے فرمایا کہ جب آیت کریمہ"تُرْجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنْہُنَّ وَتُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ"نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت سودہ،جویریہ،صفیہ،ام حبیبہ،میمونہ سے قدرے علیحدگی فرمائی اور حضرت عائشہ،ام سلمہ،زینب ،حفصہ سے قرب فرمایا پھر سب کو اپنے سے قریب فرمالیا،سوائے بی بی صفیہ کے جن کے لیے باری مقرر نہ فرمائی،حضرت عطاء نے یہ آخری بات سنی۔واﷲ اعلم!(مرقات)
۶
؎بی بی صفیہ کی وفات رمضان ۵۰ ھ؁ ∞ امیر معاویہ کے زمانہ میں مدینہ پاک میں ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہ کی وفات ۵۷ھ؁ ∞ میں ، بی بی سودہ کی وفات ۴۴ھ؁ ∞ میں ، بی بی زینب کی وفات ۲۰ھ؁ ∞ میں،بی بی جویریہ ۵۰ھ؁ ∞ میں فوت ہوئیں دیکھو مواہب الدنیہ اور مرقات،لہذا حضرت صفیہ کے متعلق یہ بات غلط ہے۔
۷
؎یہ ہی صحیح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو طلاق دی نہیں تھی دینا چاہی،بعض روایات میں ہے طلاق دے دی تھی،مگر عرض کرنے پر رجوع فرمالیا تھا،چنانچہ بیہقی میں حضرت عروہ سے روایت هے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بی بی سودہ کو طلاق دے دی،جب آپ نماز کو تشریف لے گئے تو راستہ میں بی بی سودہ نے آپ کا دامن پکڑ کر یہ عرض کیا جو یہاں مذکور ہے تو آپ نے رجوع فرمایا،مگر روایت اول صحیح ہے۔خیال رہے کہ زوجہ کے قصور کے بغیر بھی طلاق دے دینا جائز ہے نکاح کا باقی رکھنا مرد کا اپنا مستقل حق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو تو اس بارے میں خصوصی اختیار ہے،یہ بھی خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مطلقہ بیوی نکاح کرسکتی ہے،جو حضور کی وفات کے بعد رہیں وہ کسی سے نکاح نہیں کرسکتیں،کیوں ؟ اس لیے کہ حضور زندہ ہیں ان کی ازواج بیوہ نہیں،خاوند والیاں بیویاں ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزْوٰجَہٗ مِنۡۢ بَعْدِہٖۤ اَبَدًا"اگر مطلقہ بیوی بھی کسی سے نکاح نہیں کرسکتیں تو طلاق سے فائدہ کیا ہوتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3237