Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6087

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسٰى اِلَّا أَنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن سعد بن أبي وقاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: «أنت مني بمنزلة هارون من موسى الا أنه لا نبي بعدي» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس درجہ میں ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھا ۱؎بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جب حضور غزوہ تبوک میں جانے لگے تو حضرت علی کو اہل مدینہ کی حفاظت پر اور حضرت عبدالله ابن مکتوم کو نماز کی جماعت کرانے پر مقرر فرمایا،حضرت علی نے جہاد میں ساتھ جانے کی خواہش کی تو یہ فرمایا کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام جب طور پر مناجات کے لیے گئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب خلیفہ بنی اسرائیل میں چھوڑ گئے ایسے ہی میں تم کو اپنا نائب خلیفہ بنا کر مدینہ میں چھوڑ تا ہوں اور خود جاتا ہوں۔
۲
؎یعنی تم میں اور جناب ہارون علیہ السلام میں فرق یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ بھی تھے اور نبی بھی تم میرے خلیفہ تو ہو مگر نبی نہیں کیونکہ مجھ پر نبوت ختم ہوچکی اب نہ تو میرے زمانہ میں کوئی نبی ہو نہ میرے بعد۔اس حدیث سے روافض یہ دلیل پکڑتے ہیں کہ حضرت علی حضور کے خلیفہ بلا فصل ہیں،ان میں اکثر تو کہتے ہیں کہ تمام صحابہ اس لیے کافر ہیں کہ انہوں نے حضرت علی کے ہوتے ہوئے اور کو خلیفہ مان لیا،بعض روافض کا عقیدہ یہ ہے کہ خود حضرت علی بھی کافر ہیں کہ انہوں نے اپنی خلافت کے لیے صحابہ سے جنگ نہ کی بلکہ ان خلفاء کی بیعت کرلی۔(مرقات)یہ عقیدہ تو سارے روافض کا ہے کہ حضرت علی نے تقیہ کرکے دب کر ان خلفاء سے بیعت کی تھی۔نعوذ باللهشیر نہ تقیہ کرتا ہے نہ دبتا ہے نہ مظلوم ہوتا ہے حضرت علی شیر تھے۔شعر
چوں علی شیر است و حق باشیر نر ظلم نتواں کرد بر شیر اے پسر
روافض کا یہ استدلال بالکل غلط ہے اس لیے کہ یہاں اس وقتی خلافت کا ذکر ہے جو حضور کی غیرموجودگی میں حضرت علی کو عطا ہوئی واپسی پر ختم ہوگئی۔حضرت ہارون کے ساتھ مشابہت صرف اس عارضی وقتی خلافت میں ہے تشبیہ مطلق نہیں بلکہ تشبیہ مقید ہیں ورنہ حضرت ہارون سگے بھائی تھے موسیٰ علیہ السلام کے،حضرت علی چچا زاد بھائی،نیز حضرت ہارون عمر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے حضرت علی چھوٹے، حضرت ہارون موسیٰ علیہ السلام سے چالیس سال پہلے وفات پاگئے تھے حضرت علی بعد میں حیات رہے،نیز حضور نے صرف حفاظت مدینہ کا حضرت علی کو خلیفہ کیا تھا نماز کا امام نہ بنایا تھا وہ تو ابن ام مکتوم تھے رضی الله عنہ لہذا خلافت بلافصل کو اس حدیث سے دور کا تعلق بھی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6087