Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6093

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: آخٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهٖ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ فَقَالَ: آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِيْ وَبَيْنَ أَحَدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن ابن عمر قال: آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أصحابه فجاء علي تدمع عيناه فقال: آخيت بين أصحابك ولم تؤاخ بيني وبين أحد. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « أنت أخي في الدنيا والآخرة».رواه الترمذي وقال:هذاحديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا ۱؎تو علی آئے ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ میں بھائی چارہ کرا دیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تم دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ مہاجرین کو انصار کا بھائی قرار دیا کہ فلاں مہاجر فلاں انصار کا بھائی اور فلاں فلاں کا کہ ہر ایک دوسرے کے مال میں برابر کا حصہ دار ہے اور بعد وفات ایک دوسرے کا وارث بعد میں یہ حکم آیت میراث سے منسوخ ہوگیا انصار نے اپنا آدھا مال بخوشی اپنے مہاجر بھائی کو دے دیا ایسی بے مثال مہمان داری آسمان نے کبھی نہ دیکھی تھی۔
۲
؎یارسول الله آپ نے مجھے کسی انصاری کا بھائی نہ بنایا میں بے یارومددگار رہ گیا۔
۳
؎یعنی تم رشتہ میں بھی میرے چچا زاد بھائی ہو اور اب اس عقد مواخات میں بھی تم کو اپنا بھائی بنایا اور دنیا و آخرت میں اپنا بھائی بنایا۔سبحان الله!مگر خیال رہے کہ اس کے باوجود کبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو بھائی کہہ کر نہ پکارا جب پکارا تو یارسول الله کہہ کر پھرکسی ایرے غیرے کو بھائی کہنے کا حق کیسے ہوسکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6093