Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6106

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ آتِيهِ بِأَعْلٰى سَحَرٍ فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلٰى أَهْلِي وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

وعن علي قال: كانت لي منزلة من رسول الله صلى الله عليه وسلم لم تكن لأحد من الخلائق آتيه بأعلى سحر فأقول: السلام عليك يا نبي الله فإن تنحنح انصرفت إلى أهلي وإلا دخلت عليه. رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے وہ قرب و منزلت تھی جو مخلوق میں کسی کو نہ تھی ۱؎میں آپ کی خدمت میں سویرے تڑکے آتا تھا عرض کرتا تھا آپ پر سلام اے الله کی نبی ۲؎تو اگر آپ کھکار دیتے تو میں اپنے گھر لوٹ جاتا ورنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ۳؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎واقعی حضرت علی کو بعض قرب حضور سے وہ حاصل ہے جو کسی بشر بلکہ کسی مخلوق کو حاصل نہیں،آپ حضور کے چچا کے بیٹے ہیں،حضور صلی الله علیہ و سلم نے آپ کے گھر میں اور آپ نے حضور کی آغوش میں پرورش پائی ہے،آپ جناب فاطمہ کے خاوند ہیں،آپ حضور صلی الله علیہ و سلم کی نسل کی اصل ہیں آپ ساری مخلوق میں منفرد ہیں۔
۲
؎یعنی میں نماز فجر سے پہلے ہی حضور صلی الله علیہ و سلم کے گھر آتا تو اجازت داخلہ کے لیے سلام کرتا تھا یہ سلام تحیت نہ تھا بلکہ سلام استیذان تھا اجازت مانگنے کا سلام۔
۳
؎یعنی مجھ کو صریحی اجازت کی ضرورت نہ تھی مجھے حاضری کی اجازت عامہ مل چکی تھی حضور انور کا جواب سلام نہ دینا میرے لیے اجازت ہوتی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ اجازت لینے کے واسطے جو سلام ہو اس کا جواب دینا واجب نہیں سلام تحیت کا جواب دینا واجب ہے۔(از مرقات)سلام بہت قسم کے ہیں: سلام تحیت،سلام رخصت،سلام کرم،سلام غضب،سلام متارکہ وغیرہ ان سب کے احکام جداگانہ ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6106