Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6097

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا انْتَجَيْتُهٗ وَلَكِنَّ اللّٰهَ انْتَجَاهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن جابر قال: دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا يوم الطائف فانتجاه فقال الناس: لقد طال نجواه مع ابن عمه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما انتجيته ولكن الله انتجاه» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے طائف کے دن حضرت علی کو بلایا ان سے سرگوشی کی ۱؎تو لوگوں نے کہا کہ حضور کی سرگوشی اپنےچچازادے کے ساتھ بہت دراز ہوئی تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان سے میں نے سرگوشی نہیں کی لیکن الله نے سرگوشی کی ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎غزوہ طائف ۷ھ؁ ∞میں ہوا ہے فتح مکہ سے متصل یعنی فتح طائف کے دن حضور انور نے حضرت علی سے بہت دراز سرگوشی فرمائی لوگوں نے اس دراز سرگوشی پر تعجب کیا۔(اشعہ)یا مطلب یہ ہے کہ جب حضور نے حضرت علی کو طائف بھیجا۔(مرقات)
۲
؎اس عبارت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ مجھے رب تعالٰی نے علی سے سرگوشی کرنے انہیں راز بتانے کا حکم دیا ہے میں اس کے حکم سے یہ عمل کررہا ہوں۔دوسرے یہ کہ میری سرگوشی درحقیقت رب تعالٰی کی سرگوشی ہے کہ میں فنا فی الله ہوں میرا ہر کام گویا رب کی طرف سے ہے اس کی طرف منسوب ہے،فرماتاہے:"وَمَا رَمَیۡتَ اِذْ رَمَیۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰی" اعلٰی حضرت نے خوب فرمایا؎سنگریزہ می زند دست جناب مارمیت اذ رمیت آید خطاب
تا ابد گر شرح این معضل کنم جز تحیر ہیچ نبود حا صلم

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6097