Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6096

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَالَ: رَوٰى بَعْضُهُمْ هٰذَاالْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ وَلَا نَعْرِفُ هٰذَاالْحَدِيثَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الثِّقَاتِ غَيْرَ شَرِيكٍ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنا دار الحكمة وعلي بابها» . رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب وقال: روى بعضهم هذاالحديث عن شريك ولم يذكروا فيه عن الصنابحي ولا نعرف هذاالحديث عن أحد من الثقات غير شريك

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں علم کا گھر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور فرمایا کہ بعض محدثین نے یہ حدیث شریک سے روایت کی ہے اور اس میں صنابحی کا ذکر نہ کیا اور ہم یہ حدیث سوائے شریک کے کسی ثقہ سے نہیں پہچانتے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیسے گھر کی جو چیز ملتی ہے دروازہ سے ملتی ہے ایسے ہی میرے علم سے جو کچھ جسے ملے گا علی کے ذریعے ملے گا۔ خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے علوم بہت ہیں اور ان علوم کے بہت دروازے ہیں۔حضرت علی ولایت اور قضا کے دروازہ ہیں کہ فرمایاو اقضاھم علی،حضرت ابی ابن کعب علم تجویدیعنی قراءت کے دروازے ہیں کہ فرمایاانہ اقراءکماور حضرت زید ابن ثابت علم فرائض کے دروازہ ہیں کہ فرمایاانہ افرضکماور حضرت معاذ ابن جبل علم حلال و حرام کے دروازہ ہیں کہھو اعلمکم بالحلال والحرام۔حضور کے علوم جنت سے زیادہ وسیع ہیں جب جنت کے دروازہ آٹھ ہیںلھا ثمانیۃ ابوابتو نہ معلوم حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے علم کے کتنے دروازے ہیں جن میں سے ایک حضرت علی بھی ہیں،ہر صحابی حضور کے کسی نہ کسی فیض کا دروازہ ہیں فرمایااصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم۔(مرقات)صوفیاء فرماتے ہیں کہ علم ولایت کے حضرت علی قاسم ہیں ہم نے عرض کیا؎ہوں چشتی قادری یا سہروردی نقشبندی ہوں ولایت کا انہی کے ہاتھ سے سب کو ملا ٹکڑا
غرضکہ یہاں حصر کا کوئی لفظ نہیں کہ صرف علی دروازہ ہیں اور دوسرا نہیں۔بعض روایات میں ہے کہ میں علم کا شہر ہوں ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کی بنیاد ہیں،عمر رضی اللہ عنہ اس کی دیوار،عثمان رضی اللہ عنہ اس کی چھت اور علی رضی اللہ عنہ دروازہ ہیں۔اسے مرقات نے بحوالہ کتاب الفردوس نقل فرمایا اسی جگہ۔غرضکہ اگر علم سے مراد علم طریقت ہے تو صرف حضرت علی کرم الله وجہہ اس کا دروازہ ہیں اور اگر علم شریعت مراد ہے تو حضرت علی دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں۔
۲
؎اس حدیث کی اصل ابی الصلب عبدالسلام ابن صالح حرولی سے ہے،یہ شخص شیعہ تھا مگر غالی نہ تھا اس سے دیگر صحابہ کرام کے مناقب کی روایات مروی ہیں،بعض محدثین نے اسے موضوع کہا بعض نے ضعیف مگر حق یہ ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ (از مرقات و اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6096