Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6107

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِن كَانَ متأخِّراً فَارْفَعْنِيْ وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ فَضَرَبَهٗ بِرِجْلِهٖ وَقَالَ: «اللّٰهُمَّ عَافِهٖ - أَوِ اشْفِهٖ » شَكَّ الرَّاوِي قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

وعنه قال: كنت شاكيا فمر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أقول: اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفعني وإن كان بلاء فصبرني. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كيف قلت؟» فأعاد عليه ما قال فضربه برجله وقال: «اللهم عافه - أو اشفه » شك الراوي قال: فما اشتكيت وجعي بعد. رواه الترمذي وقال: هذاحديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ میں بیمار تھا تو مجھ پر رسول الله صلی الله علیہ و سلم گزرے میں کہہ رہا تھا کہ الٰہی اگر میری موت آگئی ہے تو اب مجھے چین دے اور اگر ابھی دیر ہے تو مجھے صحت دے اور اگر امتحان ہے تو مجھے صبر دے ۱؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تم نے کیا کہا انہوں نے دوبارہ آپ پر پیش کردیا جو کہا تھا حضور نے اپنے پاؤں سے ان کو ٹھوکر لگائی ۲؎اور فرمایا الٰہی انہیں عافیت دے انہیں شفا دے،راوی کو شک ہے فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ بیماری نہ ہوئی ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله!عجیب و غریب دعا ہے جس میں مرض کے ہر پہلو پر دعا کی گئی ہے۔راحت دینے سے مراد موت دے دینا کہ مؤمن کی موت بھی راحت ہوتی ہے کہ موت کے ذریعہ مؤمن دنیا کی آفات و تکالیف سے نجات پا جاتا ہے۔ارفعبنا ہےرفعسے بمعنی وسعت عیش۔اس سے مراد ہے صحت اور تندرستی کیونکہ زندگی کی بہار تندرستی سے ہے۔
۲
؎معلوم ہوا کہ حضور کے قدم شریف میں شفا ہے آپ کی ٹھوکروں سے بیمار اچھے ہوتے ہیں،بعض صوفیاء بیمار کو ٹھوکر لگاتے ہیں اس عمل کی اصل یہ حدیث ہے؎سنگریزوں نے حیات ابدی پائی ہے ٹھوکروں میں ترے اعجاز مسیحائی ہے
۳
؎یعنی اس ٹھوکر شریف کے بعد مجھے یہ بیماری کبھی نہ ہوئی دوسری بیماری ہوئی ہوں تو ہوئی ہوں۔سبحان الله !حضور کے قدم سے صرف صحت ہی نہیں ہوتی بلکہ تندرست رہنے کی گاڑنٹی بھی ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6107