Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6099

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: «اللّٰهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتّٰى تُرِيَنِي عليّاً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أم عطية قالت: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جيشا فيهم علي قالت: فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو رافع يديه يقول: «اللهم لا تمتني حتى تريني عليا» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱؎فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک لشکر بھیجا جن میں جناب علی تھے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا حالانکہ آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے الٰہی مجھے موت نہ دینا حتی کہ تو مجھے علی کو دکھا دے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام شریف نصیبہ بنت کعب یا بنت حارث ہے،انصاریہ ہیں،اکثر جہادوں میں جاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
۲
؎حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے یہ دعا یا تو حضرت علی کو بھیجتے وقت مانگی یا جب حضرت علی چلے گئے تب مانگی یا جب اس لشکر کی واپسی کی خبر پہنچی تب مانگی۔بہرحال اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کو حضرت علی سے انتہائی محبت تھی ان کی غیرموجودگی بہت شاق تھی۔(مرقات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6099