Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6098

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هٰذَاالْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرُكَ» قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: فَقُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنٰى هٰذَاالْحَدِيثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهٗ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرَكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: «يا علي لا يحل لأحد يجنب في هذاالمسجد غيري وغيرك» قال علي بن المنذر: فقلت لضرار بن صرد: ما معنى هذاالحديث؟ قال: لا يحل لأحد يستطرقه جنبا غيري وغيرك. رواه الترمذي وقال: هذاحديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے حضرت علی سے فرمایا اے علی میرے اور تمہارے سوا کسی کو جائز نہیں کہ اس مسجد سے جنبی ہوکر گزرے ۱؎علی ابن منذر کہتے ہیں کہ میں نے ضرار ابن صراد سے کہا کہ اس حدیث کے معنی کیا ہیں فرمایا یہ مطلب ہے کہ میرے اور تمہارے سوا کسی کو حلال نہیں کہ جنابت میں مسجد کو راستہ بنائے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث اپنے ظاہری معنی میں نہیں ہے،یہ مطلب نہیں کہ حضرت علی کرم الله وجہہ کو مسجد میں جنبی ہونے کی اجازت ہے بلکہ بحالت جنابت مسجد میں سے گزرنے کی اجازت دی گئی مطلب وہ ہے جو آگے آرہا ہے۔
۲
؎اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ کسی کے گھر کا دروازہ مسجد کی طرف نہ ہوتا کہ اسے مسجد میں گزرنا پڑے سوائے حضرت علی کے کہ ان کے گھر کا دروازہ مسجد میں ہوسکتا ہے وہ مسجد میں گزریں اگرچہ بحالت جنابت ہوں یہ حکم حضور کی حیات شریف میں تھا۔وفات کے قریب فرمایا کہ جس کا دروازہ مسجد میں ہو وہ بند کردیا جاوے سوائے ابوبکر کے دروازہ کے کہ وہ کھلا رہے۔لایبقین خوختہآخر میں ہےالا خوخۃ ابی بکراس کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے۔خیال رہے کہ دوسری مسجدوں میں سے گزرنا بحالت جنابت احناف کے یہاں منع ہے،شوافع کے ہاں جائز ہےالا عابری سبیلمگر مسجد نبوی شریف میں سے بحالت جنابت گزرنا سب کے نزدیک حرام ہے سواء حضرت علی اور حضرت ابوبکر صدیق کے،اب بھی حضرت صدیق کے گھر کا دروازہ مسجد نبوی میں ہے جسے ابباب ابوبکر الصدیقمیں تبدیل کردیا گیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6098