Main Icon

باب : ممانعت کے اوقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1039

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يَتَحَرّٰى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا»وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتّٰى تَبْرُزَ. فَإِذا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتّٰى تَغِيبَ وَلَا تَحَيَّنُوا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطلَعُ بَين َقَرْنَيْ الشَّيْطَانِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يتحرى أحدكم فيصلي عند طلوع الشمس ولا عند غروبها»وفي رواية قال: «إذا طلع حاجب الشمس فدعوا الصلاة حتى تبرز. فإذا غاب حاجب الشمس فدعوا الصلاة حتى تغيب ولا تحينوا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها فإنها تطلع بين قرني الشيطان»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی قصد نہ کرے کہ سورج نکلنے کے وقت اور ڈوبنے کے وقت نماز پڑھے ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جب سور ج کا کنارہ چمک جائے تو نماز چھوڑ دو حتی کہ بلند ہوجائے ۲؎پھر جب سورج کا کنارہ چھپ جائے تو نماز چھوڑ دو حتی کہ پورا غائب ہوجائے اور اپنی نماز کے لیے سورج کے طلوع غروب کا وقت مقرر نہ کرو،کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے بیچ میں طلوع ہوتا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سورج نکلنے سے مراد اس کے چمکنے سے بلند ہونے تک کا وقت ہے یعنی چمکنے سے بیس منٹ بعد تک اور ڈوبنے سے مراد پیلا پڑنے سے چھپنے تک کا وقت یعنی چھپنے سے بیس منٹ پہلے ہے جیسا کہ اور روایات میں ہے ۱۲
۲
؎کنارہ مشرق سے ایک نیزہ بلند ہو کر اس میں تیزی آجائے کہ اتنے عرصہ میں ہر نماز ممنوع ہے ۱۲
۳
؎اس طرح کہ ایک شیطان سورج کے ساتھ گردش کرتا رہتا ہے ہر جگہ سورج کا طلوع اس کے سینگوں کے بیچ میں ہوتا ہے۔اس کی تحقیق "اوقات نماز"کے باب میں گزر گئی۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1039