Main Icon

باب : ممانعت کے اوقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1044

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «صَلَاة الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ»فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْ لَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ. فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ نَحْوَهٗ وَقَالَ: إِسْنَادُ هٰذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ مُحَمَّدَ بن إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو. وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَنُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ قَيْسِ بْنِ قَهدٍنَحوَه

عن محمد بن إبراهيم عن قيس بن عمرو قال: رأى النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يصلي بعد صلاة الصبح ركعتين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «صلاة الصبح ركعتين ركعتين»فقال الرجل: إني لم أكن صليت الركعتين اللتين قب لهما فصليتهما الآن. فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه أبو داود وروى الترمذي نحوه وقال: إسناد هذا الحديث ليس بمتصل لأن محمد بن إبراهيم لم يسمع من قيس بن عمرو. وفي شرح السنة ونسخ المصابيح عن قيس بن قهدنحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن ابراہیم سے وہ قیس ابن عمرو سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا صبح کی نماز دو دو رکعتیں پڑھتے ہو ۲؎اس نے عرض کیا کہ میں نے پہلی دو رکعتیں نہ پڑھیں تھیں وہ اب پڑھ لیں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم خاموش ہوگئے ۳؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل روایت کی اور فرمایا کہ اس کی اسناد متصل نہیں ہے کیونکہ محمد ابن ابراہیم نے قیس ابن عمرو سے نہ سنا ۴؎اور شرح سنہ اور مصابیح کے نسخوں میں قیس ابن قہد سے اس کی مثل ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حضرت محمد ابن ابراہیم بہت نوعمر تابعی ہیں اور قیس ابن عمرو صحابی انصاری ہیں۔
۲
؎یعنی دوبارہ پڑھتے ہو ابھی میرے ساتھ جماعت سے پڑھ چکے ہو،پھر دوبارہ اکیلے پڑھے رہے ہو یا یہ مطلب ہے کہ کیا صبح کی دو رکعتوں کے بعد دو نفل بھی پڑھتے ہو،حالانکہ تمہیں خبر ہے کہ اس وقت نفل نہیں پڑھے جاتے۔
۳
؎اس حدیث کی بناء پر امام شافعی رحمۃ الله علیہ وغیرہم بزرگوں سے سنت فجر کی قضاء آفتاب نکلنے سے پہلے جائز مانی ہے۔امام صاحب کے ہاں صرف سنت فجر کی قضاء کبھی نہیں ہاں اگر سنتیں مع فرضوں کے رہ گئی ہوں تو دوپہر سے پہلے فرضوں کے تابع ہو کر ان کی بھی قضاء ہوجائے گی جیسا کہ شب تعریس کے واقعہ میں ہوا کیونکہ قضاء صرف واجب یا فرض کی ہوسکتی ہے سنتوں کی قضاء اصول شرعی کے خلاف لہذا یہاں ثبوت ہوگیا صرف وہیں قضاء ہوگی،یہ حدیث منقطع ہے متصل نہیں جیسا کہ خود امام ترمذی فرمارہے ہیں،لہذا اس سے استدلال غلط ہے۱۲
۴
؎یعنی محمد ابن ابراہیم اور قیس ابن عمرو کے درمیان کوئی راوی چھوٹ گیا ہے اور خبر نہیں کہ وہ راوی عادل ہے یا فاسق اس لیے یہ حدیث مجہول ہے اور قابل عمل نہیں،نیز اس حدیث میں یہ پتہ نہ لگا کہ وہ صحابی فجر کے بعد کس وقت سنتیں پڑھ رہے تھے،آفتاب نکلنے سے پہلے یا بعد لہذا حدیث گویا مجمل ہے اور ممانعت صراحۃً آچکی ہے کہ صبح کی نماز کے بعد نماز نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1044