Main Icon

باب : ممانعت کے اوقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1047

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الصَّلَاةَ نِصْفَ النَّهَارِ حَتّٰى تَزُولَ الشَّمْسُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ: «إِنَّ جَهَنَّمَ تَسجَرُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ أَبُو الْخَلِيلِ لَمْ يَلْقَ أَبَا قَتَادَةَ

وعن أبي الخليل عن أبي قتادة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم كره الصلاة نصف النهار حتى تزول الشمس إلا يوم الجمعة وقال: «إن جهنم تسجر إلا يوم الجمعة» . رواه أبو داود وقال أبو الخليل لم يلق أبا قتادة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالخلیل سے ۱؎وہ حضرت ابوقتادہ سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے دوپہری میں سورج ڈھلنے تک نماز کو ناپسند کیا سوائے جمعہ کے دن کے اور فرمایا کہ دوزخ جھونکا جاتا ہے سواء جمعہ کے دن کے اور فرمایا ابوالخلیل ابوقتادہ سے نہ ملے ۲؎

شرح حدیث

۱؎آپ کا نام صالح ابن ابی مریم ہے،تابعین میں سے ہیں۔
۲
؎ یعنی ابوالخلیل اور ابوقتادہ کے درمیان کوئی راوی رہ گیا ہے خبر نہیں کہ فاسق ہے یا عادل، لہذا یہ حدیث منقطع اس سے دلیل نہیں پکڑسکتے اور مذہب احناف بہت قوی ہے کہ جمعہ کے دن بھی دوپہری میں نماز ناجائز ہے اور جمعہ کی نماز زوال سے پہلے نہیں پڑھ سکتے ۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1047