- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 790
باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 790
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلّٰى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ اِرْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَرَجَعَ فَصَلّٰى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِّيَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ثمَّ افْعَلْ ذٰلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن أبي هريرة: أن رجلا دخل المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في ناحية المسجد فصلى ثم جاء فسلم عليه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : «وعليك السلام ارجع فصل فإنك لم تصل» . فرجع فصلى ثم جاء فسلم فقال: «وعليك السلام ارجع فصل فإنك لم تصل» فقال في الثالثة أو في التي بعدها علمني يا رسول الله فقال: «إذا قمت إلى الصلاة فأسبغ الوضوء ثم استقبل القبلة فكبر ثم اقرأ بما تيسر معك من القرآن ثم اركع حتى تطمئن راكعا ثم ارفع حتى تستوي قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا» . وفي رواية: «ثم ارفع حتى تستوي قائما ثم افعل ذلك في صلاتك كلها»(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص مسجد میں آیا ۱؎حالانکہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مسجد کے ایک کونہ میں جلوہ گر تھے اس نے نماز پڑھی ۲؎پھر آیا حضور کو سلام کیا اس سے نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایاوعلیک السلاملوٹ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ۳؎وہ لوٹ گیا نماز پڑھی پھر آیا سلام کیا آپ نے فرمایاوعلیك السلاملوٹ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی اس نے تیسری بار یا اس کے بھی بعد عرض کیا یارسول الله مجھے سکھا دیجئے ۴؎فرمایا جب تم نماز کی طرف اٹھو تو وضو پورا کرو پھر کعبے کو منہ کرو،پھرتکبیر کہو،پھر جس قدر قرآن آسان ہو پڑھ لو۵؎پھر رکوع کرو حتی کہ رکوع میں مطمئن ہوجاؤ پھر اٹھو حتی کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو حتی کہ سجدے میں مطمئن ہوجاؤ ۶؎پھر اٹھو حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر سجدہ کرو حتی کہ سجدے میں مطمئن ہوجاؤ پھر اٹھو حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔اور ایک روایت میں ہے پھر اٹھو حتی کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ پھر اپنی ساری نماز میں یہی کرو ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ آنے والے حضرت خلاد ابن رافع انصاری ہیں جو جنگ بدر میں شہید ہوئے ،یہ واقعہ سیدنا ابوہریرہ نے اپنی نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ کسی صحابی سے سن کر بیان فرمارہے ہیں کیونکہ حضرت خلاد بدر ۲ھ میں شہید ہوگئے۔ اور حضرت ابوہریرہ ۷ھ میں اسلام لائے مگر چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اس لیے دیکھنے والے کا نام مذکور نہ ہونا مضر نہیں۔
۲؎غالبًا یہ نماز نفل تحیۃ المسجد تھے جو جلدی جلدی تعدیل ارکان کے بغیر ادا کرلیے گئے تھے یا اس میں کوئی اور نقصان رہ گیا تھا۔
۳؎اس مضمون سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مسجد نبوی میں آنے والا نمازیوں کو عمومی سلام الگ کرے اورحضور انور کو علیحدہ۔اب بھی زائرین حاضری شریف کے وقت دو رکعتیں پڑھ کر مواجہہ اقدس میں حاضری دے کر سلام عرض کرتے ہیں، الله ہم سب کو نصیب کرے ۔دوسرے یہ کہ سلام میںعلیکمبھی کہہ سکتے ہیںعلیكبھی۔ تیسرے یہ کہ واجب رہ جانے سے نماز لوٹالینی واجب ہے ۔خیال رہے کہ بھول کر واجب چھوٹ جانے پر سجدہ سہو واجب ہے اور عمدًا چھوڑنے سے نماز لوٹانا واجب۔ چوتھے یہ کہ نماز میں تعدیل ارکان،یعنی اطمینان سے ادا کرناواجب ہے کیونکہ یہ بزرگ جلدی سے ادا کرکے آگئے تھے اسیلئے نماز دوبارہ پڑھوائی گئی۔
۴؎یعنی ہر دفعہ یہ نماز پڑھ کر آتے سلام عرض کرتے اور لوٹا دیئے جاتے۔ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے پہلی ہی دفعہ انہیں نماز کا طریقہ نہ سکھایا بلکہ کئی بار پڑھواکر پھر بتایا تاکہ یہ واقعہ انہیں یاد رہے اور مسئلہ خوب حفظ ہوجائے کہ جو چیز مشقت و انتظار سے ملتی ہے وہ دل میں بیٹھ جاتی ہے،جیسے ایک صحابی بغیر سلام کیے حاضر ہوگئے تو فرمایا پھر لوٹ کر جاؤ اور سلام کرکے آؤ،لہذا اس میں علماء کو طریقہ ٔتبلیغ کی تعلیم بھی ہے۔
۵؎یعنی جو سورت یا آیت تمہیں یاد ہو وہ پڑھو اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے: "فَاقْرَءُوۡامَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ" ۔اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں بلکہ مطلقًا تلاوت فرض ہے کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے وضوء قبلہ کو منہ اورتکبیر وغیرہ فرائض کے سلسلے میں مطلق قرأت کا ذکر کیا نہ کہ سورۂ فاتحہ پڑھنے کا۔ جن احادیث میں آتا ہے کہ بغیر سورۂ فاتحہ نماز نہیں ہوتی وہاں مراد ہے کہ نماز کامل نہیں ہوتی لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں،یہ حدیث امام اعظم رحمۃ الله علیہ کی بہت قوی دلیل ہے۔خیال رہے کہ بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں سے کم پڑھنے کو قرأت قرآن یا تلاوت قرآن نہیں کہا جاتا۔لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ قرآن کا ایک لفظ بھی پڑھنا نماز کے لیئے کافی ہونا چاہیے حالانکہ تم اس کے قائل نہیں۔
۶؎اس کا نام ہے تعدیل ارکان،یعنی نماز کے ارکان کو اطمینان سے ادا کرنا کہ ہر رکن میں تین تسبیح کی بقدر ٹھہرنا۔یہ تعدیل امام شافعی رحمۃ الله علیہ اور امام یوسف رحمۃ الله علیہ کے ہاں فرض ہے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے تعدیل نہ ہونے پر فرمایالَمْ تُصَلِّتم نے نماز پڑھی ہی نہیں جس کے بغیر نماز بالکل نہ ہو وہ فرض ہوتا ہے ۔امام اعظم کے نزدیک تعدیل فرض نہیں بلکہ واجب ہے کہ جس کے رہ جانے سے نماز ناقص واجب اعادہ ہوتی ہے لیکن فرض ادا ہوجاتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہلَمْ تُصَلِّمیں کمالِ نماز کی نفی آتی ہے یعنی تم نے کامل نماز نہیں پڑھی کیونکہ ابوداؤد، ترمذی،نسائی میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اگر تم ان کاموں کو پورا کرو گے تو تمہاری نماز پوری ہوگی اور اگر ان میں سے کچھ کم کرو گے تو تمہاری نماز ناقص ہوگی۔معلوم ہوا کہ تعدیل کے بغیر نماز ناقص ہوگی باطل نہیں لہذا یہ واجب ہے فرض نہیں،نیز تعدیل فرض ہوتی تو حضور صلی الله علیہ و سلم انہیں اول ہی سے بتادیتے انہیں بغیر فرض ادا کیئے نماز بار بار پڑھنے کی اجازت نہ دیتے کیونکہ اس کے بغیرو ہ نمازیں بالکل بے کار تھیں اور فعل عبث تھا اور واجب کے بغیر ان نمازوں میں کچھ ثواب مل گیا۔
۷؎اس سے معلو م ہوا کہ ہر رکعت میں تلاوت قرآن فرض ہے مگر یہ حکم فرض نماز کے علاوہ میں ہے فرض کی پہلی دو رکعتوں میں تلاوت فرض باقی میں نفل، چونکہ ان بزرگ نے تحیۃ المسجد نفل ادا کیئے تھے لہذا انہیں یہ حکم دیا گیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 790