Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 790

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلّٰى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ اِرْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَرَجَعَ فَصَلّٰى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِّيَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ثمَّ افْعَلْ ذٰلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة: أن رجلا دخل المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في ناحية المسجد فصلى ثم جاء فسلم عليه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : «وعليك السلام ارجع فصل فإنك لم تصل» . فرجع فصلى ثم جاء فسلم فقال: «وعليك السلام ارجع فصل فإنك لم تصل» فقال في الثالثة أو في التي بعدها علمني يا رسول الله فقال: «إذا قمت إلى الصلاة فأسبغ الوضوء ثم استقبل القبلة فكبر ثم اقرأ بما تيسر معك من القرآن ثم اركع حتى تطمئن راكعا ثم ارفع حتى تستوي قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا» . وفي رواية: «ثم ارفع حتى تستوي قائما ثم افعل ذلك في صلاتك كلها»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص مسجد میں آیا ۱؎حالانکہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مسجد کے ایک کونہ میں جلوہ گر تھے اس نے نماز پڑھی ۲؎پھر آیا حضور کو سلام کیا اس سے نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایاوعلیک السلاملوٹ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ۳؎وہ لوٹ گیا نماز پڑھی پھر آیا سلام کیا آپ نے فرمایاوعلیك السلاملوٹ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی اس نے تیسری بار یا اس کے بھی بعد عرض کیا یارسول الله مجھے سکھا دیجئے ۴؎فرمایا جب تم نماز کی طرف اٹھو تو وضو پورا کرو پھر کعبے کو منہ کرو،پھرتکبیر کہو،پھر جس قدر قرآن آسان ہو پڑھ لو۵؎پھر رکوع کرو حتی کہ رکوع میں مطمئن ہوجاؤ پھر اٹھو حتی کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو حتی کہ سجدے میں مطمئن ہوجاؤ ۶؎پھر اٹھو حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر سجدہ کرو حتی کہ سجدے میں مطمئن ہوجاؤ پھر اٹھو حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔اور ایک روایت میں ہے پھر اٹھو حتی کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ پھر اپنی ساری نماز میں یہی کرو ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ آنے والے حضرت خلاد ابن رافع انصاری ہیں جو جنگ بدر میں شہید ہوئے ،یہ واقعہ سیدنا ابوہریرہ نے اپنی نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ کسی صحابی سے سن کر بیان فرمارہے ہیں کیونکہ حضرت خلاد بدر ۲ھ میں شہید ہوگئے۔ اور حضرت ابوہریرہ ۷ھ میں اسلام لائے مگر چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اس لیے دیکھنے والے کا نام مذکور نہ ہونا مضر نہیں۔
۲
؎غالبًا یہ نماز نفل تحیۃ المسجد تھے جو جلدی جلدی تعدیل ارکان کے بغیر ادا کرلیے گئے تھے یا اس میں کوئی اور نقصان رہ گیا تھا۔
۳
؎اس مضمون سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مسجد نبوی میں آنے والا نمازیوں کو عمومی سلام الگ کرے اورحضور انور کو علیحدہ۔اب بھی زائرین حاضری شریف کے وقت دو رکعتیں پڑھ کر مواجہہ اقدس میں حاضری دے کر سلام عرض کرتے ہیں، الله ہم سب کو نصیب کرے ۔دوسرے یہ کہ سلام میںعلیکمبھی کہہ سکتے ہیںعلیكبھی۔ تیسرے یہ کہ واجب رہ جانے سے نماز لوٹالینی واجب ہے ۔خیال رہے کہ بھول کر واجب چھوٹ جانے پر سجدہ سہو واجب ہے اور عمدًا چھوڑنے سے نماز لوٹانا واجب۔ چوتھے یہ کہ نماز میں تعدیل ارکان،یعنی اطمینان سے ادا کرناواجب ہے کیونکہ یہ بزرگ جلدی سے ادا کرکے آگئے تھے اسیلئے نماز دوبارہ پڑھوائی گئی۔
۴
؎یعنی ہر دفعہ یہ نماز پڑھ کر آتے سلام عرض کرتے اور لوٹا دیئے جاتے۔ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے پہلی ہی دفعہ انہیں نماز کا طریقہ نہ سکھایا بلکہ کئی بار پڑھواکر پھر بتایا تاکہ یہ واقعہ انہیں یاد رہے اور مسئلہ خوب حفظ ہوجائے کہ جو چیز مشقت و انتظار سے ملتی ہے وہ دل میں بیٹھ جاتی ہے،جیسے ایک صحابی بغیر سلام کیے حاضر ہوگئے تو فرمایا پھر لوٹ کر جاؤ اور سلام کرکے آؤ،لہذا اس میں علماء کو طریقہ ٔتبلیغ کی تعلیم بھی ہے۔
۵
؎یعنی جو سورت یا آیت تمہیں یاد ہو وہ پڑھو اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے: "فَاقْرَءُوۡامَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ" ۔اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں بلکہ مطلقًا تلاوت فرض ہے کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے وضوء قبلہ کو منہ اورتکبیر وغیرہ فرائض کے سلسلے میں مطلق قرأت کا ذکر کیا نہ کہ سورۂ فاتحہ پڑھنے کا۔ جن احادیث میں آتا ہے کہ بغیر سورۂ فاتحہ نماز نہیں ہوتی وہاں مراد ہے کہ نماز کامل نہیں ہوتی لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں،یہ حدیث امام اعظم رحمۃ الله علیہ کی بہت قوی دلیل ہے۔خیال رہے کہ بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں سے کم پڑھنے کو قرأت قرآن یا تلاوت قرآن نہیں کہا جاتا۔لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ قرآن کا ایک لفظ بھی پڑھنا نماز کے لیئے کافی ہونا چاہیے حالانکہ تم اس کے قائل نہیں۔
۶
؎اس کا نام ہے تعدیل ارکان،یعنی نماز کے ارکان کو اطمینان سے ادا کرنا کہ ہر رکن میں تین تسبیح کی بقدر ٹھہرنا۔یہ تعدیل امام شافعی رحمۃ الله علیہ اور امام یوسف رحمۃ الله علیہ کے ہاں فرض ہے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے تعدیل نہ ہونے پر فرمایالَمْ تُصَلِّتم نے نماز پڑھی ہی نہیں جس کے بغیر نماز بالکل نہ ہو وہ فرض ہوتا ہے ۔امام اعظم کے نزدیک تعدیل فرض نہیں بلکہ واجب ہے کہ جس کے رہ جانے سے نماز ناقص واجب اعادہ ہوتی ہے لیکن فرض ادا ہوجاتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہلَمْ تُصَلِّمیں کمالِ نماز کی نفی آتی ہے یعنی تم نے کامل نماز نہیں پڑھی کیونکہ ابوداؤد، ترمذی،نسائی میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اگر تم ان کاموں کو پورا کرو گے تو تمہاری نماز پوری ہوگی اور اگر ان میں سے کچھ کم کرو گے تو تمہاری نماز ناقص ہوگی۔معلوم ہوا کہ تعدیل کے بغیر نماز ناقص ہوگی باطل نہیں لہذا یہ واجب ہے فرض نہیں،نیز تعدیل فرض ہوتی تو حضور صلی الله علیہ و سلم انہیں اول ہی سے بتادیتے انہیں بغیر فرض ادا کیئے نماز بار بار پڑھنے کی اجازت نہ دیتے کیونکہ اس کے بغیرو ہ نمازیں بالکل بے کار تھیں اور فعل عبث تھا اور واجب کے بغیر ان نمازوں میں کچھ ثواب مل گیا۔
۷
؎اس سے معلو م ہوا کہ ہر رکعت میں تلاوت قرآن فرض ہے مگر یہ حکم فرض نماز کے علاوہ میں ہے فرض کی پہلی دو رکعتوں میں تلاوت فرض باقی میں نفل، چونکہ ان بزرگ نے تحیۃ المسجد نفل ادا کیئے تھے لہذا انہیں یہ حکم دیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 790