Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 794

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَرَفَعَ ذٰلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلٰى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

وعن نافع: أن ابن عمر كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه وإذا ركع رفع يديه وإذا قال سمع الله لمن حمده رفع يديه وإذا قام من الركعتين رفع يديه ورفع ذلك ابن عمر إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر جب نماز میں داخل ہوتے تو تکبیر کہتے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب "سمع الله لمن حمدہ" کہتے تو ہاتھ اٹھاتے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے حضرت ابن عمر نے اس کام کو نبی صلی الله علیہ و سلم تک مرفوع کیا ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ابھی ہم عرض کرچکے کہ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نماز میں رفع یدین نہ کرتے تھے اور یہاں حضرت نافع کی روایت میں آگیا کہ کرتے تھے ان دونوں روایتوں کو جمع کرلو کہ پہلے کرتے تھے بعد میں نہ کرتے تھے یعنی نسخ کے پتہ لگنے پر رفع یدین چھوڑ دیا،از طحاوی۔ فقیر نے"جاءالحق"حصہ دوم میں ر فع یدین نہ کرنے کی پچیس حدیثیں جمع کی ہیں وہاں مطالعہ کرو۔
لطیفہ: مکہ معظمہ میں امام اعظم رحمۃ الله علیہ اور امام اوزاعی رحمۃ الله علیہ کا مسئلہ رفع یدین میں مناظرہ ہوا، امام اوزاعی نے رفع یدین کے لیے حضرت ابن عمر کی حدیث پیش کی، امام اعظم نے جواب دیا کہ مجھ سے حماد نے روایت کی انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے علقمہ اور اسود سے انہوں نے حضرت ابن مسعود سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم سوائے تکبیر اولیٰ کے کبھی رفع یدین نہ کرتے اور فرمایا کہ میری حدیث کے تمام راوی بڑے فقیہ و عالم ہیں ،لہذا تمہاری حدیث سے یہ حدیث راجح ہے۔مرقات ،فتح القدیر وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 794