Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 806

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلّٰى قَالَ: صَلّٰى لَنَا أَبُوسَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَالَ: هٰكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

عن سعيد بن الحارث بن المعلى قال: صلى لنا أبوسعيد الخدري فجهر بالتكبير حين رفع رأسه من السجود وحين سجد وحين رفع من الركعتين وقال: هكذا رأيت النبي صلى الله عليه وسلم . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید بن حارث بن معلے سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم کو ابوسعید خدری نے نماز پڑھائی تو جب سجدہ سے سر اٹھایا اور جب سجدہ کیا اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تو اونچی آواز سے تکبیرکہی ۲؎اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو یونہی دیکھا۔ (بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں،مشہور تابعین میں سے ہیں،عرصہ دراز تک مدینہ منورہ کے قاضی رہے۔
۲
؎یعنی نماز کی تمام تکبیریں بلند آواز سے کہیں۔معلوم ہوا کہ امام کو تکبیراتِ نماز اونچی کہنی چاہئیں مقتدیوں کی اطلاع کے لیےمگر ضرورت سے زیادہ آواز نہ نکالے،خصوصًا جب کہ اس میں تکلیف بھی ہو لہذا جس کے پیچھے دو تین مقتدی ہوں وہ بہت چیخ کر تکبیریں نہ کہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 806