Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 799

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهٗ مِنَ الرَّكْعَةِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَهْوِي ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَ یَرْفَعُ رَاْسَہُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثمَّ يُكَبِّرُ حِين يَرْفَعُ رَأْسَهٗ ثُمَّ يَفْعَلُ ذٰلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتّٰى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يكبر حين يقوم ثم يكبر حين يركع ثم يقول: «سمع الله لمن حمده» حين يرفع صلبه من الركعة ثم يقول وهو قائم: «ربنا لك الحمد» ثم يكبر حين يهوي ثم یکبر حین یرفع راسہ ثم يكبر حين يسجد ثم يكبر حين يرفع رأسه ثم يفعل ذلك في الصلاة كلها حتى يقضيها ويكبر حين يقوم من الثنتين بعد الجلوس (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم جب نماز کے لیے اٹھتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے پھر رکوع کے وقت تکبیر کہتےپھر جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے تو کہتے"سمع الله لمن حمدہ"پھر کھڑے کھڑے کہتے"ربنالك الحمد" ۱؎پھر جب جھکتے تو تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے پھر جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے پھر ساری نماز میں یونہی کرتے حتی کہ اسے پوری کرلیتے اور دو رکعتوں میں بیٹھنے کے بعد جب اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جب اکیلے نماز پڑھتے نہ کہ جماعت میں کیونکہ جماعت میں امام صرف"سِمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَہ"کہتا ہے اور مقتدی صرف "رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"دونوں کلمے صرف اکیلا نمازی ہی جمع کرتا ہے اگرچہ اکیلا نمازی یہ کلمات آہستہ کہتا ہے لیکن حضور صلی الله علیہ وسلم تعلیم امت کے لیے آہستہ کلمات بھی کبھی آواز سے فرمادیتے تھے اسی لیے صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ حضور ظہر میں فلاں سورتیں پڑھتے تھے اور عصر میں فلاں۔
۲
؎خلاصہ یہ کہ سوائے رکوع سے اٹھنے کے باقی نماز کی ہر حرکت میں تکبیر کہنا چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 799