Main Icon

باب : جگہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1106

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ فِي بَيتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهٖ فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهٖ فَعَدَلَنِي كَذٰلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ اِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن عبد الله بن عباس قال: بت في بيت خالتي ميمونة فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فقمت عن يساره فأخذ بيدي من وراء ظهره فعدلني كذلك من وراء ظهره الى الشق الأيمن(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ میمونہ کے گھر میں رات گزاری ۱؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز کے لیے اٹھے میں آپ کے بائیں کھڑا ہوگیا تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اسی طرح پیٹھ کے پیچھے سے دائیں طرف گھمالیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جب کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی باری ان کے ہاں تھی اس نیت سے رات گزاری تاکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے رات کے اعمال طیبہ و طاہرہ دیکھوں اور حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تہجد ادا کروں جیسا کہ دیگر روایات میں ہے اس لیے آپ تمام رات جاگتے ہی رہے ہوں گے۔شعر
ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا
تصور میں تیرے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں
۲
؎اس حدیث سے بہت سے مسائل معلو م ہوئے: ایک یہ کہ نفل نماز خصوصًا تہجد جماعت سے جائز ہے جبکہ اس کے لیے اذان تکبیر لوگوں کے بلاوے وغیرہ سے اہتمام نہ کیا گیا ہو۔دوسرے یہ کہ اکیلا مقتدی امام کے برابر دائیں طرف کھڑاہوگا۔ تیسرے یہ کہ عمل قلیل ضرورۃً نماز میں جائز ہے جس سے نماز نہیں ٹوٹتی،دیکھو حضور صلی الله علیہ وسلم نے نماز ہی میں آپ کو ہاتھ سے پکڑ کر گھمایا اور آپ نماز ہی میں ایک دو قدم چل کر بائیں سے دائیں طرف گئے۔چوتھے یہ کہ مقتدی امام سے آگے نہیں بڑھ سکتا اگر بڑھے گا تو نماز جاتی رہے گی، دیکھو حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے آپ کو آگے سے نہیں گھمایا حالانکہ وہ آسان تھا بلکہ پیچھے سے گھمایا۔پانچویں یہ کہ جس نے اول سے امامت کی نیت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے ،دیکھو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بوقت تکبیرتحریمہ اکیلے نماز کی نیت کی تھی مگر بعد میں حضرت ابن عباس مقتدی بن کر کھڑے ہوگئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1106