Main Icon

باب : جگہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1110

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهٗ اِنْتَهَى الَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى الَى الصَّفِّ. فَذَكَرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «زَادَكَ اللهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي بكرة أنه انتهى الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو راكع فركع قبل أن يصل إلى الصف ثم مشى الى الصف. فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «زادك الله حرصا ولا تعد» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے کہ وہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم تک پہنچے حالانکہ آپ رکوع میں تھے تو انہوں نے صف تک پہنچنے سے پہلے رکوع کردیا پھر صف تک چلے ۱؎یہ واقعہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا تو فرمایا الله تمہاری حرص بڑھائے دوبارہ ایسا نہ کرنا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بات یہ تھی کہ آپ کو رکعت جاتے رہنے کا خطرہ تھا اس لیے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع کردیا،پھر رکوع میں ہی یا قومہ میں ایک دو قدم سے صف تک پہنچے، اور اگر تین قدم سے پہنچے تو وہ قدم لگاتار نہ تھے ورنہ آپ کی نماز نہ ہوتی اور حضور صلی الله علیہ وسلم نماز لوٹانے کا حکم دیتے۔
۲
؎یعنی تمہارا یہ عمل رکعت اول پانے کی حرص پر ہے یہ حرص دینی ہے جو محمود ہے،خدا اسے بڑھائے ،دنیوی حرص بری رب فرماتا ہے،حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہونا نماز کو فاسد نہیں کرتا کیونکہ آپ نے رکوع صف کے پیچھے اکیلے ہی کیا تھا مگر حضور نے آپ کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔دوسرے یہ کہ صف میں ملنے سے پہلے تکبیر تحریمہ اور رکوع کردینا مکروہ تنزیہی ہے تحریمی نہیں ور نہ حضور صلی الله علیہ وسلم آپ کو نماز لوٹانے کا حکم دیتے۔ تیسرے یہ کہ نماز میں جانب قبلہ ایک دو قدم چلنا یا تین قدم بغیر لگاتار کیئے ڈالنا نماز فاسد نہیں کرتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1110