Main Icon

باب : جگہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1107

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ فَجِئْتُ حَتّٰى قُمْتُ عَنْ يَسَارِهٖ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتّٰى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينه ثُمَّ جَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدَيْنَا جَمِيعًا فَدَفَعَنَا حَتّٰى أَقَمْنَا خَلْفَه. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي فجئت حتى قمت عن يساره فأخذ بيدي فأدارني حتى أقامني عن يمينه ثم جاء جبار بن صخر فقام عن يسار رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذ بيدينا جميعا فدفعنا حتى أقمنا خلفه. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے پھر میں آیا حتی کہ آپ کی بائیں طر ف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھمایا یہاں تک کہ اپنے دائیں مجھے کھڑا کرلیا پھر جبار ابن صخر آئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے بائیں کھڑے ہوگئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے ہم دونوں کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں پیچھے کیا حتی کہ ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کرلیا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سارے عمل عمل قلیل کی حد تک ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایک ہی ہاتھ سے گھمایا، اور ایک ہی ہاتھ کے اشارے سے دونوں کو پیچھے کیا اور یہ دونوں حضرات ایک یا دو قدم سے پیچھے پہنچے،اگر متواتر تین قدم ڈالتے تو ان کی نماز جاتی رہتی۔خیال رہے کہ دو مقتدیوں کا امام کے برابر کھڑا ہونا مکروہ ہے اور پیچھے کھڑا ہونا بہت بہتر ہے مگر تین کا پیچھے کھڑا ہونا واجب،برابر کھڑا ہونا سخت مکروہ کیونکہ تین پوری صف ہیں، اگر دو آدمی امام کے برابر کھڑے ہوں تو ایک دائیں کھڑا ہو دوسر ا بائیں جیسا کہ مسلم شریف میں ہے کہ حضرت علقمہ اور اسود نے عبد الله بن مسعود کی اقتداء میں اس طرح نماز پڑھی کہ امام درمیان میں تھے اور یہ دونوں دائیں بائیں،یہ بیان جواز کے لیے تھا یا ضرورۃً۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ اس موقعہ پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان دونوں مقتدیوں کو پیچھے کیا خود آگے نہ بڑھے کیونکہ آگے جگہ نہ تھی حجرے شریف کی دیوار تھی ورنہ ایسے موقعہ پر امام کا آگے بڑھ جانا سہل تر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1107