Main Icon

باب:خوش طبعی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4884

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتّٰى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ كَانَ لَهٗ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهٖ فَمَاتَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أنس قال: إن كان النبي صلى الله عليه وسلم ليخالطنا حتى يقول لأخ لي صغير: يا أبا عمير ما فعل النغير؟ كان له نغير يلعب به فمات. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہم میں گھلے ملے رہتے تھے ۱∞؎حتی کہ میرے بھائی سے کہتے تھے ۲؎کہ ابو عمیر چڑیا کیا ہوئی ۳؎اون کی ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلتے تھے وہ مر گئی ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بعض روایات میں ہےلیخا طبنایعنی ہم سے کلام فرماتے تھے۔
۲
؎ابو عمیر حضرت انس کے چھوٹے بھائی تھے اخیافی،ان کے باپ کا نام زید ابن سہیل تھا،کنیت ابو طلحہ،ابو عمیر کا نام کبشہ تھا۔ (مرقات)۳؎بعض شارحین نے فرمایا کہنغیربلبل کا نام ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ کوئی اور چڑیا ہے جس کی چونچ سرخ ہوتی ہے حضور کا یہ فرمان حضرت ابو عمیر کو تسکین دینے یا ان کا دل بہلانے کے لیے تھا۔
۴
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ چڑیا پالنا اسے پنجرے میں رکھنا اس سے بچوں کا کھیلنا جائز ہے بشرطیکہ اس کے دانہ پانی آرام کا خیال رکھے۔دوسرے یہ کہ حرم مدینہ میں شکار کرنا درست ہے ورنہ چڑیا کا پنجرہ میں رکھنا بھی حرام ہوتا جیساکہ حرم مکہ کا حال ہے کہ وہاں نہ تو شکار کرنا درست ہے نہ شکار کو پنجرے وغیرہ میں رکھنا درست۔تیسرے یہ کہ معلوم بات کا پوچھنا کسی اچھے مقصد کے لیے درست ہے۔حضور کو خبر تھی کہ چڑیا مرگئی پھربھی پوچھ رہے کہ چڑیا کیا ہوئی۔چوتھے یہ کہ بچوں سے خوش طبعی کرنا ان کا دل بہلانے کے لیے جائز ہے،پانچویں یہ کہ ہم وزن نام بولنا درست ہے جیسے حضور انور نے فرمایا ابو عمیر،نغیر۔خیال رہے کہ کبوتر پالنا درست ہے کبوتر بازی حرام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4884